ایک فلسطینی شخص پر فرانس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے دہشت گردی کی مالی اعانت کی اور 2023 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے خلاف حملوں سے تعلق کا شبہہ ہونے پر اقدامِ قتل میں معاونت کی۔ یہ بات اس مقدمے کے قریبی ذرائع نے جمعرات کو بتائی۔
قومی انسدادِ دہشت گردی پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ اس پر لوگوں کے خلاف حملوں کی تیاری کے نکتۂ نظر سے مبینہ دہشت گردانہ سازش، دہشت گردی کی مالی معاونت اور اقدامِ قتل میں معاونت کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
تقریباً 35 سال عمر کا یہ شخص مقدمے سے پہلے مزید تفتیش کی غرض سے زیرِ حراست تھا۔
مشتبہ شخص کے بارے میں خیال ہے کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس کی الفتح پارٹی کے مسلح ونگ الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کا رکن ہے۔
مقدمے کے قریبی ذرائع کے مطابق اس پر 2023 کے اوائل میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے خلاف حملوں سے تعلق اور بریگیڈز کو رقوم بھیجنے کا شبہ ہے۔
یہ تفتیش دسمبر 2023 میں انسدادِ دہشت گردی پراسیکیوٹر کے دفتر کی طرف سے شروع کردہ تحقیق کے حصے کے طور پر کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فرانسیسی حکام کو معاملے کی اطلاع دینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا، یہ شخص کئی سالوں سے فرانس میں مقیم ہے۔
اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر ان کے وکیل ایمانوئل ڈی ڈینیچن نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔