ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سینئیر مشیر نے ایرانی عوام پر زور دے کے کہا ہے کہ ایسے فرد کو صدر منتخب کریں جو سپریم لیڈر کے قریب تر ہو اور سپریم لیڈر کے خیالات سے بھی گہری ہم آہنگی رکھتا ہو ۔ سینئیر مشیر نے یہ بات بدھ کے روز 28 جون کو ہونے والے صدراتی انتخابات کے حوالے سے کہی ہے۔
ایران میں صدارتی انتخاب ماہ مئی میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حارثے میں اچانک رحلت کے باعث صدارتی سیشن پورا ہونے سے پہلے کرائے جارہے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے لیے 28 جون کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ بصورت دیگر معمول میں ایرانی صدارتی انتخاب 2025 میں متوقع تھے۔
مرحوم صدر رئیسی سپریم لیڈر کے بہت قریب اور ان کے وفادار سمجھے جاتے تھے۔ اس وجہ سے خیال کیا جاتا تھا کہ وہ سپریم لیڈر کے جانشیںن بھی ہو سکتے ہیں۔
پچھلے اتوار کو شوری نگہبان نے اگلے صدارتی انتخاب کے لیے چھ امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے۔ جبکہ ایک سابق صدر احمدی نژاد کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے اس موقع پر کہا ہے کہ ' ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے لوگوں نے حالیہ برسوں سے سبق لیا ہے کہ ایسے صدر کا انتخاب کیا جانا چاہیے جس کے خیالات سپریم لیڈر سے قریب ہوں نہ کہ ان سے متصادم یا فرق ہوں۔'
خیال رہے ایرانی سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کے باہمی تعلقات ہمیشہ اچھے نہیں رہے ہیں یعنی کبھی اچھے اور کبھی برے رہے ہیں ۔ ان میں سےایک معاملہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور سابق صدر محمود احمد نژاد کا بھی رہا ہے۔
اسی تناظر میں یحییٰ رحیم صفوی نے عوام پر زوردیا ہے کہ وہ حکومت کا صدر اور ایرانی سپریم لیڈر کے درمیان ایسے فرد کو صدر بنائیں جو ایرانی سپریم لیڈر کے خیالات کے قریب تر ہو۔
-
حماس کے کچھ مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا: بلنکن
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے حماس کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی ...
مشرق وسطی -
امریکی گارنٹی کے ساتھ غزہ سے اسرائیلی مکمل انخلا، حماس کی شرائط کا انکشاف
حماس کی طرف سےغزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر جوبائیڈن کی تجاویز کے ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج پر مغربی کنارے کے تشدد میں آباد کاروں کی 'فعال' حمایت کا الزام
فوج اور آبادکاروں کے درمیان فرق مزید دھندلا ہوتا جا رہا ہے جس کی موجودہ حکومت نے ...
مشرق وسطی