ایران میں صدارتی امیدوار غیر فارسی لوگوں کی حمایت کے لیے کیا کر رہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جیسے جیسے ایران میں 28 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات قریب آرہے ہیں چھ امیدواروں کی انتخابی مہم بھی تیز ہو رہی ہے اور اسی دوران غیر فارسی لوگوں کے مسئلے نے مکالموں، ٹیلی ویژن پر ہونے والے مباحثوں میں ٹھوس جگہ بنا لی ہے۔ صدارتی امیدواروں کی سرگرمیاں میں غیر فارسی گروپوں کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ اعداد وشمار کے مطابق یہ گروپ آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ تاہم چونکہ ایران میں قومی بنیادوں پر آبادی کی مردم شماری نہیں ہوتی اس لیے ان کی درست تعداد معلوم نہیں ہے۔

عملیت پسند بنیاد پرست امیدوار محمد باقر قالیباف کو گذشتہ جمعرات کو ایرانی کردستان میں "کرد نسلوں کے لیے رابطہ کار کمیٹی" کے عنوان سے اپنی انتخابی مہم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کا مقصد ایرانی کردوں کے درمیان ان کی ترویج کرنا ہے۔

ایران میں حزب اختلاف اور حکومت کے وفادار یکساں طور پر آذربائیجانی، ترکوں، کردوں، اہوازی عربوں، بلوچیوں، لوروں، ترکمانوں، گیلیلیکوں اور مازیوں کو پکارنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ لوگ "ایرانی عوام" کے بجائے "ایرانی نسل" کے فقرے کو ترجیح دیتے ہیں۔

2013 کے صدارتی الیکشن میں قالیباف نے صدارتی امیدوار کے طور پر اہواز کے جنوب مغرب میں واقع شہر محمرہ (خرمشہر) میں عرب قبائلی شیخوں سے ملاقات کی اور اس وقت کہا تھا میں آپ سے بیعت کرتا ہوں اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں مستقبل کی حکومت بنانے کے لیے تمام نسلوں سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ وہ اس وقت جیت نہیں سکے تھے کہ یہ ووٹرز ان کے اخلاص کی تصدیق کر سکیں۔

علاحدگی پسندی کا الزام

اصلاح پسند امیدوار مسعود پیزشکیان ترک آذربائیجان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں کئی حملوں اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کی غیر ایرانی نسل کی وجہ سے ان پر علیحدگی پسندی کا الزام لگایا گیا۔ بدھ کے روز ایک ٹیلی ویژن بحث کے دوران انہوں نے "ترک قوم پرستی" کے بارے میں اپنے موقف کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نسلوں کا دفاع کرتے ہیں کیونکہ یہ ایرانی نسلیں ہیں۔ اس وقت پیزشکیان نے استفسار کیا کہ کیا آج کسی بلوچ شخص کو پوسٹ آفس کے سربراہ کے عہدے پر تعینات کرنے کی اجازت ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے شخص کا اتھارٹی کے ساتھ جھگڑا ہونا فطری بات ہے ۔ یہ اس کی غلطی نہیں ہے، بلکہ ہماری غلطی ہے کیونکہ ہم نے اسے اس کے حقوق نہیں دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ لوگ صرف اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ریاست کو یہ حقوق انہیں دینا چاہیے۔

جہاں تک غیر فارسی علاقوں میں مظاہروں کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ لوگ (ایران میں) عرب، ترک اور کرد قوم پرستانہ رجحانات کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟ کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

ایران کی ایران میں تقسیم

دوسری جانب پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی سے وابستہ ویب سائٹ "تابناک" نے ایک ترک چینل کے ساتھ پیزشکیان کا سابقہ انٹرویو شائع کیا ہے جس میں وہ ملک میں ایک قسم کی وفاقی تقسیم کا دفاع کرتے نظر آئے ہیں۔ اصلاح پسند امیدوار اس بات پر بھی زور دیتے نظر آتے ہیں کہ ترکوں، کردوں، عربوں اور فارسیوں کے لیے علاقے ہونے چاہئیں تاکہ ہر خطہ اپنے وسائل کا انتظام کرے۔ ویب سائٹ نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران کو ایرانستان میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں۔ یعنی ایرانی زمینوں کو قوموں کی بنیاد پر مزید تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں۔

لوری بختیاری لباس

انتہا پسند بنیاد پرست امیدوار علی رضا زکانی نے لباس کے ذریعے غیر فارسی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ انتخابی مہم کے دوران "گوکھا" پہنے ہوئے "ایرانی نسلی" سمپوزیم میں گئے۔ یہ زگروس پہاڑوں کے جنوب مغرب میں رہنے والے لوری بختیاری لوگوں کا قومی لباس ہے۔ تاہم اس دوران انہوں نے غیر فارسی لوگوں کے حقوق کے بارے میں کوئی بات نہیں کی لیکن انہوں نے بختیاری لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ ان لوگوں نے انہیں اپنے لوگوں کی طرح قبول کیا۔

علی رضا زکائی نے کہا کہ ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔ عوام ہی اس میدان میں قابض ہیں۔ آزادی کا ایک پہلو خوراک کے ذرائع پر توجہ ہے ۔ زگروس پہاڑوں میں موجود صوبے خوراک کے تحفظ کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے غیر فارسی عوام کے شہری کارکن، جنہیں ملک میں سیاسی طور پر کام کرنے کی اجازت ہے، عام طور پر کم از کم آئینی مطالبات پیش کرتے ہیں۔ ان میں معطل ایرانی آئین کے آرٹیکل 15 کے مطابق لسانی حقوق سمیت تمام لوگوں کے درمیان برابری کی بات کی گئی ہے۔

یہ آرٹیکل مختلف قومیتوں کی زبانوں کی تعلیم اور میڈیا میں ان کے استعمال کی اجازت دیتا ہے جبکہ فارسی ایران کی واحد سرکاری زبان ہے۔ غیر فارسی لوگوں یا غیر فارسی نسلوں سے تعلق رکھنے والے دیگر کارکنوں کے مطالبات آزادی، خود کی حکمرانی اور وفاقیت سے متعلق ہیں۔ وفاقیت پر مرکزی حکام سختی سے توجہ دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ قبل از وقت انتخابات سابق صدر ابراہیم رئیسی کی مئی میں مشرقی آذربائیجان صوبے میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے بعد موت کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ الیکشن 28 جون کو متوقع ہیں۔ ایک اصلاح پسند امیدوار کے مقابلے میں بنیاد پرست کیمپ سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں