منگل کے روز ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے تصدیق کر دی ہے کہ غزہ میں شہریوں کا تحفظ فرانس کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح شہریوں کے تحفظ سے متعلق براہ راست بیان پہلی بار فرانس کی طرف سے سامنے آیا ہے۔
واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ سات اکتوبر پچھلے سال سے جاری ہے۔ اب اس جنگ کو نو ماہ ہونے جا رہے ہیں۔ اب تک اس جنگ میں 37658 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد فلسطینی شہریوں کی ہے، جبکہ عورتوں اور بچوں کی تعداد دو تہائی کے برابر ہے جو اب تک اس جنگ میں ہلاک کیے گئے ہیں۔
تاہم منگل کے روز ایک سفارتی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ صدر میکرون شہریوں کی غزہ میں ہلاکتوں کے مسئلے کو بہت اہمیت دیتے ہیں اس لیے انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے فوری رابطہ کیا ہے تاکہ وہ نیتن یاہو کی مدد سے شہریوں کی حفاظت کے لیے کچھ کرسکیں۔
سفارتی ذریعے کے مطابق فرانس کے صدر چاہتے ہیں کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم بھی محفوظ اور مناسب طریقے سے کی جانے کی ضرورت ہے تاکہ امداد کی شہریوں تک رسائی بغیر کسی رکاوٹ ممکن ہو سکے۔
فرانس کے اس سفارتی ذریعے نے اس معاملے میں ' العربیہ ' کے ساتھ بات جاری رکھتے ہوئے کہا ' غزہ میں شہریوں کی صوت حال اب ابتر ہو رہی ہے۔ لیکن اسرائیل نے امدادکی تقسیم کے لیے عالمی برادری کی رائے پر کان نہیں دھرے ہیں۔
سفارتی ذریعے نے ایک سوال کے جواب میں کہا 'فرانس کی تمام ترکوششوں کا فوکس جنگ بندی کے لیے صدر جوبائیڈن کے پیش کردہ حالیہ منصوبے کی حمایت کےحوالے سے ہوں گی۔ '
اس سے ایک روز قبل صدر میکرون اور اردن کے شاہ عبداللہ نے اسرائیل پر مشترکہ طور پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کی راہ میں پیدا کردہ تمام رکاوٹیں دور کرے۔
دونوں رہنماؤں نے پیرس میں ملاقات کے دوران غزہ مین مستقل جنگ بندی کے ساتھ غزہ میں قید تمام تر یرغمالیوں کی رہائی پر بھی زور دیا ہے۔
غزہ میں قحط کے خطرے کی نشاندہی
عالمی سطح پر فوڈ سیکورٹی کے لیے اقدامات کو مربوط کرنے کے ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جب تک غزہ میں جنگ جاری رہے گی غزہ کی پوری پٹی پر قحط کا خطرہ موجود رہے گا۔ کیونکہ غزہ میں خوراک اور امدادی سامان کی تقسیم میں آج بھی رکارٹیں ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے اپنی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر آبادی کا پانچواں حصہ جو کہ تقریبا چار لاکھ پچانوے ہزار بنتا ہے تباہ کن حد تک خوراک سے محرومی کا شکار ہے۔ اس لیے فوری طور پر ضروری ہے کہ غزہ میں امداد کی تقسیم بحفاظت ممکن بنائی جائے۔