ترکیہ میں گرفتاری اور پھر عراق منتقلی کے پانچ سال بعد داعش کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ کو کرخ کی عدالت نے بدھ کو سزائے موت سنا دی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اعلان کیا ہے کہ کرخ فوجداری عدالت نے البغدادی کی پہلی بیوی اسماء محمد کو تنظیم کے ساتھ کام کرنے اور یزیدی خواتین کو اپنے گھر میں نظر بند رکھنے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔
البغدادی کی بیوہ کون ہے ؟
ابو بکر البغداد کی بیہ کا نام اسماء فوزی محمد الکبیسی ہے۔ ان کا عرفی نام "ام حذیفہ" ہے اور وہ داعش کے رہنما ابوبکر البغدادی کی پہلی بیوی ہے۔ البغدادی نے اسماء سے 1999 میں شادی کی تھی۔ 48 سالہ اسماء الکبیسی 2012 میں شام کے ادلب کے دیہی علاقوں میں البغدادی کے ساتھ اور پھر 2014 میں شام کے شہر رقہ میں رہتی تھیں۔ وہ ایک جعلی شناخت اور ایک عرف کا استعمال کرتے ہوئے ترکیہ میں رہ رہی تھی۔
العربیہ کو انٹرویو میں افشا راز
2019 میں ترکیہ نے اعلان کیا تھا کہ 2018 میں شام کی سرحد پر واقع صوبہ ھاتای میں اسما اور بیٹی لیلیٰ اور دس دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ فروری 2024 میں ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اسماء نے البغدادی کی زندگی کے راز اور تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے شوہر کو امریکی افواج نے 2004 میں بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ البغدادی کے پاس 10 سے زیادہ یزیدی لڑکیاں تھیں۔
13 سالہ لڑکی سے شادی
اسماء نے نشاندہی کی تھی کہ البغدادی نے ایک 13 سالہ عراقی لڑکی سے شادی کی تھی۔ وہ لڑکی البغدادی کی بیٹیوں جیسی تھی۔ اپنی گرفتاری کے بعد اسماء نے البغدادی اور داعش کے اندرونی کاموں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی تھیں۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ابراہیم العواد، جو بعد میں البغدادی کے نام سے مشہور ہوا، اپنی ریاست کے حصول کا خواہشمند تھا۔ عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر اپنی نام نہاد ریاست قائم کرنے کے بعد البغدادی مغرور ہوگیا تھا۔ اسما نے وضاحت کی کہ جیل سے رہائی کے دو سال بعد البغدادی کے خیالات بالکل بدل گئے۔ اس نے بتایا کہ البغدادی کے ساتھ اس کی زندگی 2008 سے غیر مستحکم تھی۔
یزیدی خواتین کا اغوا
اسما پر یزیدی خواتین کو اپنے گھر میں نظر بند رکھنے، اور پھر نینوی گورنریٹ کے مغرب میں واقع سنجار ضلع میں داعش کے گروہوں کے ذریعے ان خواتین کو اغوا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسماء الکبیسی نے خود کو آئی ایس آئی ایس کا شکار ہونے کے طور پر پیش کیا۔ اس نے دہشت گرد تنظیم کی جانب سے کی جانے والی سرگرمیوں میں اپنے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
واضح رہے 16 فروری 2024 کو عراقی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اور بیٹی کی شناخت اور چھپنے کی جگہوں کا تعین کرنے کے بعد عراق کے پڑوسی ممالک میں سے ایک سے گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
نوجوان لڑکیوں کی بھرتی
عراقی پارلیمنٹ میں ایک نمائندے فیان دخیل نے کہا تھا کہ البغدادی کی بیوی اسما نوجوان لڑکیوں کو بھرتی کر کے اپنے شوہر البغدادی کے حوالے کر رہی تھی تاکہ ان کا جنسی استحصال کیا جا سکے اور پھر انہیں تنظیم کے شہزادوں اور جنگجوؤں کو فروخت کر دیا جائے۔
العربیہ اور الحدیث چینلز نے فروری میں البغدادی خاندان کے خصوصی انٹرویوز کا ایک سلسلہ نشر کیا جس میں پہلی بیوی اسماء محمد کے انٹرویو کا پہلا حصہ اور تیسری بیوی نور ابراہیم اور بیٹی امیمہ کا انٹرویو شامل تھا۔