مصری قاری کی تلاوت کے دوران متنازعہ حرکت پر عوامی حلقوں میں تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصرکے ایک مشہور نوجوان قاری کی تلاوت کے دوران کی گئی غیرارادی حرکت پر عوامی حلقوں میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

ایک ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں قاری عنتر کو ایک تعزیتی تقریب کے دوران تلاوت کرتے ہوئے ساتھ ہی جھومتے دیکھا جا سکتا ہے۔

عوامی حلقوں میں تنقید کے بعد قاری عنتر میدان میں اترے ہیں اور انہوں نے اپنا دفاع کیا ہے۔

غیر ارادی حرکت

ویڈیو کلپ میں نظر آنے والے قاری الشیخ ہشام سمیر عنتر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر نشر کی گئی ویڈیوپر حیران ہیں کہ الغربیہ گورنری میں قطور سینٹر میں جنازے کے دوران میری تلاوت کی ویڈیو پر ایک غیر ارادی حرکت کومتنازعے بنایا گیا اور جھومنے کا غلط الزام عاید کیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر اراردی حرکت تھی۔

"میں قرآن کا احترام کرتا ہوں"

انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں مسئلہ یہ تھا کہ اس میں تلاوت کے دوران لمبی سانس لی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ میری طرف سے غلطی تھی تو یہ سراسر غیر ارادی ہے، کیونکہ ہم قرآن پاک کا احترام کرتے ہیں‘‘۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قراء کےسنڈیکیٹ نے ان سے رابطہ کیا۔ اس کے سینیر پروفیسرز ہیں جن سے وہ سیکھتے ہیں۔ وہ ان کے کسی بھی فیصلے پر کبھی اعتراض نہیں کرتے کیونکہ وہ بہت علم رکھتے ہیں۔

قاری الشیخ ھشام سمیر عنتر
قاری الشیخ ھشام سمیر عنتر

تنقید کی لہر

ایک شہری کے جنازے میں تلاوت کرنے والے قاری عنتر کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا، جس پر تنقید کی لہر دوڑ گئی۔ وہ جھومنے کے انداز میں قران پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ تلاوت کے دوران ایسا کرنا قرآن پاک کے آداب کےخلاف ہے۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ قاری عنتر کی تلاوت کا طریقہ گانے یا شعر پڑھنے جیسا ہے۔ یہ قرآن کی تلاوت کا اچھا طریقہ نہیں ہے۔ جب کہ دوسروں کا خیال تھا کہ تلاوت کرنے والے کو شروع سے ہی قرآن کی تلاوت دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں