ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ : امریکہ میں سیاسی تشدد کو مزید بھڑکا سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ بھی بہت سے دوسرے ملکوں کی طرح کئی سیاسی و سفارتی چیلنجوں کا شکار ہے۔ ریپبلکنز کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو ڈیموکریٹس کے تعاقب پر لگا دیا ہے۔

اس سے آنے والے نومبر میں متوقع صدارتی انتخاب کے پس منظر میں مزید سیاسی تشدد کا خوف بڑھ گیا ہے۔

ٹرمپ کے حامی انہیں اس قاتلانہ حملے کے بعد ایک ہیرو کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے کان کا بہنے والا خون اور ابھرا ہوا مکا ان کی تصویروں کے ساتھ بلند کیا جانے لگا ہے منہ سے جیسے لڑو ،لڑو ،لڑو کے الفاظ ظاہر ہو رہے ہیں۔ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے، ان کا معمول ہے کہ وہ متشدد انداز کی گفتگو کرتے ہیں۔

اب بھی انہوں نے ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کے قاتلانہ حملے کی مذمت پر مبنی بیان کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے پورے سکرپٹ کو ہی جوبائیڈن پر پلٹا دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ یہ قاتلانہ حملہ مخالف صدارتی امیدوار کی شیطانت کی وجہ سے ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا ۔ یہ وہی پیرایہ اظہار تھا جو پچھلے سال سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے حوالے سے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اختیار کیا تھا اور اسرائیل کو بہت ناراض کر دیا تھا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا تھا ' سات اکتوبر کا حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے ۔' مراد یہ کہ ایک طرف اسرائیلی قبضے کی لمبی داستان ہے جس کے خلاف فلسطینی مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں اور اپنے حق آزادی کے لیے کوشاں اور دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کا رد عمل بھی ہونا تھا۔

اتفاق سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی سینیٹر نے وہی الفاظ ' ایکس' پر استعمال کیے ہیں مگر ان کا یہ استعمال کتنا برمحل اور کس قدر موزوں ہے اس بارے میں دو رائے ہو سکتی ہے۔ تاہم آوہائیو سے ٹرمپ نے جوبائیڈن کی مہم کے لوازمے کے طور پرموجود اس بیانیے کا ذکر ضرور کیا ہے کہ ' ٹرمپ ایک فاشسٹ قسم کی آمر شخصیت ہے ۔ جسے ضرور اور ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔ ان کے بقول جوبائیڈن کا یہی بیانیہ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا سبب بنا ہے۔ گویا قاتلانہ حملے کا بالواسطہ ذمہ دار جوبائیڈن ہی ہوا۔

اگرچہ جوبائیڈن نے قاتلانہ حملے سے پیدا ہو سکنے والی صورت حال کو پہلے سے ختم کرنے کی کوشش کے طور پر فوری رد عمل دیا اور قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور کہا ' اس طرح کے واقعات کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ہے۔ '

ٹرمپ پر حملے کے مرتکب فرد کا مقصد کیا تھا ابھی اس بارے میں علم نہیں ہے ۔تاہم یہ بیس سالہ تھامس میتھیو کروکس نامی پنسلوینیا کا ہی رہنے والا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ریاستی ریکارڈ کے مطابق وہ ری پبلکن کا رجسٹرڈ ممبر تھا ۔ مگر وہ 15 ڈالر کا عطیہ بائیں بازو کی طرف جھکاو رکھنے والی ایک ایکشن کمیٹی کو دے چکا تھا۔ یہ ایکشن کمیٹی بائیں بازو کی جماعتوں کی حامی ہے اور ان کے لیے جندہ جمع کرتی ہے۔ جو ڈیمو کریٹک پارٹی کی حامی ہے۔

ٹرمپ پر ہونے والا یہ حملہ انہیں تھوڑے وقت میں زیادہ بڑھاوا دینے کا ذریعہ بنے گا اور جس کا اظہار اسی ہفتے ری پبلیکن نیشنل کنوینشن میں بھی ہوگا۔ جہاں پر بطور پارٹی امیدوار ان کی نامزدگی کو منظور کیے جانے کا امکان ہے۔

اس قاتلانہ حملے کے محض چند گھنٹوں میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کی طرف سے ووٹرز سے کہا گیا کہ وہ کیمپین میں حصہ ڈالیں۔ کہ یہ لوگ 'میرے خلاف نہیں ہیں، یہ آپ کے خلاف ہیں۔'

ٹرمپ کی طرف سے اس میسج کو ارب پتی ایلون مسک اور بل ایکمن نے پڑھا اور بڑی تیزی سے اس کی تائید کر دی۔ مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر لکھا 'میں مکمل طور پر صدر ٹرمپ کی تائید کرتا ہوں اور ان کی تیزی سے صحت یابی کی امید کرتا ہوں۔'

کرس لاسی ویٹا ٹرمپ کی انتخابی مہم کی شریک مینیجر ہیں۔ انھوں نے 'ایکس' پر لکھا 'برس ہا برس سے آج تک بائیں بازو کے کارکن، ڈیموکریٹس کے ڈونرز حتیٰ کہ جوبائیڈن نے ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کو غلط بیان کیا ہے۔ یہی بہترین وقت ہے کہ انہیں اس کے لیے کٹہرے میں لایا جائے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کا بیلٹ باکس کے ذریعے احتساب کیا جائے۔'

سیاسی حملے

امریکہ ان دنوں سب سے بڑی اور مستقلاً بڑھنے والے سیاسی تشدد سے دوچار ہے۔ جو 1970 کی دہائی سے چلا آرہا ہے۔ اس میں 14 سیاسی حملے ہو چکے ہیں جن میں کیپیٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کا ایک حملہ بھی شامل ہے جو 6 جنوری 2021 کو کیا گیا تھا۔ جس میں حصہ لینے، آلہ کار بننے والے اور مشتبہ لوگ ایک خاص طرف کا واضح جھکاؤ رکھتے تھے۔

اگرچہ سابق صدر ٹرمپ نے اپنی مہم کو ایک آؤٹ سائیڈر کے طور پر چلایا ہے۔ وہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو ایک عرصے سے 'وفاقی ڈیپ سٹیٹ' نشانہ بنا رہی ہے اور جوبائیڈن انتظامیہ انہیں اقتدار میں انے سے روکنے کے لیے کوشاں ہے۔

ڈیموکریٹس کے حکمت عملی کے ماہر بریڈ بینن نے کہا ہے 'ٹرمپ پر قاتلانہ حملے نے ان کے لیے ہمدردی پیدا کی ہے۔ اس کا انہیں سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ اپنے بیانیے میں کہہ سکتے ہیں کہ ملک اپنے راستے پر نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں