سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک ڈیموکریٹ رکن کانگریس بینی تھامسن کی معاون خاتون نے نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
مسیسپی ریاست سے تعلق رکھنے والی جیکلین مارسو نے اتوار کے روز فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ "میں تشدد کی حامی نہیں مگر بہتر ہو گا کہ حملہ آور نشانے کے تربیتی اسباق لے تا کہ آئندہ مرتبہ اس کا نشانہ نہ چُوکے"۔
مارسو نے مزید لکھا کہ "یہ اس سے زیادہ عمدہ آدمی کے ساتھ نہیں ہو سکتا مگر میں سمجھتی ہوں کہ یہ (حملہ) منصوبہ بندی کے تحت تھا"۔
مارسو کی ان پوسٹوں کے بعد سوشل میڈیا پر ردود عمل کا تانتا بندھ گیا۔
مسیسپی ریاست میں ریپبلکن پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا کہ بیتنی تھامسن کو اپنی فیلڈ ڈائریکٹر (جیکلین مارسو) کو برطرف کر دینا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسیسپی ریاست میں ڈیموکریٹس کو چاہیے کہ وہ اس نوعیت کے بیان کی بیخ کنی کریں۔
بعد ازاں جیکلین مارسو نے اپنے اخباری بیان میں بتایا کہ بینی تھامسن کی ٹیم کے ایک ڈائریکٹر کے کہنے پر انہوں نے فیس بک پر اپنی پوسٹیں ہٹا دیں۔ مارسو کے مطابق ان کی پوسٹیں ازراہ مذاق کی گئیں تھیں ان کا سنجیدگی سے تعلق نہیں۔
ٹرمپ پر حملہ
یاد رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ ہفتے کے روز پنسلوینیا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر سیکرٹ سروس کے افراد فوری طور پر ٹرمپ کو ریلی سے باہر لے گئے جب کہ سابق صدر کے چہرے پر خون بہہ رہا تھا۔ گولی ان کے دائیں کان کے اوپری حصے کو چُھو کر گزر گئی تھی۔ مجمع سے باہر جاتے ہوئے ریپبلکن صدارتی امیدوار نے لوگوں کے سامنے ہوا میں اپنا مکا لہرایا۔
سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ ادارے کے افسران نے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔ اس نے ایک عمارت کی چھت پر سے گولی چلائی تھی جو ٹرمپ کے خطاب کی جگہ سے تقریبا 140 میٹر دور واقع تھی۔
فائرنگ کے نتیجے میں جائے وقوع پر موجود افراد میں ایک شخص ہلاک ہو گیا جب کہ دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور 20 سالہ نوجوان تھا جس کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے نام سے کی گئی ہے۔ اس کا تعلق پنسلوینیا کے بیتھل پارک سے ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق گولی چلانے والے حملہ آور کی گاڑی میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ یہ گاڑی پنسلوینیا میں انتخابی ریلی کی جگہ کے نزدیک کھڑی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کی لاش کے قریب " اے آر اسٹائل رائفل" پڑی ہوئی تھی۔ مزید یہ کہ مشتبہ شخص کے باپ نے یہ ہتھیار قانونی طریقے سے خریدا تھا۔