دوڑ سے دور ، جوبائیڈن کو فیصلے تک پہنچنے کے لیے روح کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن کو ایسے مطالبات کا مسلسل سامنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹ امیدوار کے طور پر الگ ہوجائیں اور کسی اور کے لیے جگہ چھوڑ دیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی ذمہ دار سوچتے ہیں کہ اس بارے میں فیصلہ کر کے الگ ہو جانے کا یہی وقت ہے۔

اس معاملے سے جڑے ذرائع کے مطابق ' جوبائیڈن کی روح درحقیقت اسی چیز کی تلاش میں ہے جو واقعات اور حقائق رونما ہو رہے ہیں، انہیں سمجھا جائے اور بہتر فیصلہ کیا جائے۔ ' ان ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا وہ اس بارے میں اب بہت سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔

81سالہ امریکی صدر جوبائیڈن پر اس سلسلے میں دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ان کی جماعت کے 'ہیوی ویٹس ' بھی کہنے لگے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ مباحثے میں کمزوری دکھانے سے جوبائیڈن کو بہت نقصان ہوا ہے۔

ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ صدر جوبائیڈن کی پیرانہ سالی اور صحت کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم میں اپنی مضبوطی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔تاکہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

تاہم بظاہر یہ ہے کہ جوبائیڈن ان مطالبات کو بے توجہی سے دور دھکیل رہے ہیں۔ ان کا استدلال یہ رہا ہے کہ انہوں نے ابتدائی دوڑ کے دوران پچھلے کئی ماہ میں لاکھوں ووٹ لیے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے بدھ کے روز بھی کہا ہے میں صدارتی انتخاب 2024 کی دوڑ میں شامل ہوں۔

دوسری جانب سابق صدر باراک اوباما نے بھی اپنے اتحادیوں کو حالیہ دنوں میں یہی کہا ہے کہ جوبائیڈن کا کامیابی کی طرف جانے والا راستہ مشکل ہو رہا ہے۔ اس لئے میں بھی یہ سوچنے لگا ہوں کہ 'صدر کو چاہیے کہ وہ اپنے صدارتی امیدوار ہونے کے ناطے امکانات کو سنجیدگی سے دیکھیں۔

ایک اور ذریعے نے کہا ' یہ بات تو اب نوشتہ دیوار لگتی ہے کہ جوبائیڈن کی حالت بہت سے قانون ساز بشمول اکثریتی سینیٹ لیڈر چک شومر بھی جوبائیڈن سے کہنے لگے ہیں کہ اب دوڑ سے باہر آجائیں۔

سینیٹر کرس کونز جو بائیڈن کے قریبی ساتھی ہیں، انہوں نے جمعرات کو' سی این این' کو بتایا کہ صدر اس ہفتے کے آخر میں یہ ثابت کر دیں گے کہ وہ صحت مند ہیں کیونکہ وہ کووڈ سے صحت یاب ہوں گے۔

' وہ پولنگ کے حوالے سے اعداد و شمار پر مبنی معلومات حاصل کر رہے ہیں اور ان افراد کے' ان پٹ' کا سنجیدگی سے جائز ہ لے رہے ہیں جو ان کے لیے قابل بھروسہ ہیں۔'

کونز نے کہا' ان کے خیال میں جوبائیڈن 2024 میں انتخاب لڑنے کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔' بدھ کو ریاست نیواڈا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو انہوں نے کسی عوامی تقریب میں شرکتب نہیں کی ۔

انتخابی مہم کے نائب کوئنٹن فلکس کے مطابق جوبائیڈن کی مہم مباحثے کے بعد سات میں سے تین ریاستوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو ممکنہ طور پر کامیابی کا ایک تنگ راستہ ہے۔ لیکن وہ ایک طرف ہو کر بیٹھ جانے کی تجاویز کو مسترد کر تے ہیں۔ وہ کمزور ہونے اور ڈگمگانے کو تیار نہیں۔ اس لیے صدر نے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔'
صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ صدارتی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ہماری مہم آگے بڑھ رہی ہے۔‘ مہم کے ایک ذمہ دار نے اس کے برعکس بات کہی۔ ہاں، یہ ختم ہو گئی ہے، بس وقت کا انتظار ہے۔'

کولوراڈو کے ڈیموکریٹ سینیٹر جان ہیکن لوپر نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ جو بائیڈن اب اس بارے میں غور کر رہے ہیں کہ انہیں صدارتی دوڑ میں موجود رہنا ہے یا نہیں۔ وہ صرف اسی بات کا انتخاب کریں گے جو ملک کے لیے اچھی ہوگی کیونکہ جو بائیڈن نے ہمیشہ ملکی مفادات کو اولیت دی ہے۔ ہمیشہ وہی کیا ہے جو امریکہ کے لیے بہترین لگا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایسا کرتے رہیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں