ڈھاکہ میں تشدد کے الزام میں 500 سے زائد گرفتار: پولیس

زیرِ حراست افراد میں حزبِ اختلاف کے کئی رہنما اور کارکنان شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پولیس نے پیر کو بتایا کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف مظاہروں کی وجہ سے جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران بعض اپوزیشن رہنماؤں سمیت 500 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان فاروق حسین نے اے ایف پی کو بتایا، "تشدد کے سلسلے میں کم از کم 532 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔"

انہوں نے حزبِ اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا، "ان میں بی این پی کے کچھ رہنما شامل ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ زیرِ حراست افراد میں بی این پی کے تیسرے سینئر ترین رہنما امیر خسرو محمود چودھری اور پارٹی کے ترجمان روح الکبیر رضوی احمد شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان اور بی این پی کی سینئر شخصیت امین الحق کو بھی گرفتار کیا گیا۔

حسین نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند پارٹی جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکرٹری میا غلام پروار کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت میں بدامنی کے دوران کم از کم تین پولیس اہلکار ہلاک اور تقریباً 1000 زخمی ہوئے جن میں سے کم از کم 60 کی حالت نازک بتائی گئی۔

بی این پی کے ترجمان اے کے ایم وحید الزمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ملک کے طول و عرض میں "گذشتہ چند دنوں میں بی این پی کے کئی سو رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں