فلسطینیوں پر 2002 کے اسرائیلی حملوں سے متعلق دستاویزات پر مشتمل 'آرکائیو' منظر عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانیہ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو مغربی کنارے میں کارروائیوں کے دوران بےقابو ہونے کی خود اجازت دیتا ہے ۔ تاکہ وہ فلسطینی شہریوں کو جس طرح چاہیں نشانہ بنا سکیں۔

برطانوی حکومت اس سلسلے میں منگل کے روز اپنے 'آرکائیو' سے ایسی کئی دستاویزات اور شواہد سامنے لائی ہے۔ اہم بات ہے کہ برطانیہ کی لیبر پارٹی کی نو منتخب حکومت کے اقتدار میں آنے کے چند ہفتے بعد ہی یہ 'آرکائیو' سامنے آیا ہے۔ جس میں 2002 کی ایریل شیرون حکومت کے زمانے کی دستاویزات اور فلسطینیوں پر حملوں سے متعلق واقعات کو مرتب کیا گیا ہے۔

ان جاری کی گئی دستاویزات کے حوالے سے مغربی ملکوں کی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے متعلق تشویش کو نمایاں کیا گیا ہے۔

اس وقت مغربی اتحادیوں کی طرف سے ظاہر کی گئی تشویش بھی اسی طرح کی تھی جیسی اسرائیل کے مغربی اتحادی آج غزہ جنگ کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ جسے اسرائیل حماس کے خلاف اپنی جنگ قرار دیتا ہے۔ لیکن غزہ میں 39006 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کے لیے برطانوی سفیر نے 2002 میں وزیراعظم شیرون کی خارجہ امور کی پالیسی کے مشیر کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے حملے اور فلسطینی آبادیوں میں گھس کر کارروائیاں کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اسرائیل کی اس غلطی سے اس کے مغربی اتحادی مجبور ہوتے ہیں کہ اس کی حمایت میں کمی کریں۔

برطانوی سفیر کے مطابق مرتب کردہ رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ اسرائیلی فوج کا رویہ اور طریقہ کار روسی فوج کے مقابلے میں بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اگرچہ مفروضہ یہ ہے کہ اسرائیل روس سے زیادہ مہذب ملک ہے۔

اسرائیل میں برطانوی سفیر نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کا یہ رویہ اسرائیلی پالیسی کا آئینہ دار ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسرائیلی فوجی انفرادی سطح پر بالکل بےقابو ہو کر بعض ایسے واقعات کا ارتکاب کر رہے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کو جنم دے رہا ہے۔

خیال رہے اس وقت 2002 میں دوسرا انتفاضہ شروع ہو چکا تھا اور یہ 2002 سے 2005 تک کے واقعات کا تذکرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں