بدامنی کم ہوتے ہی بنگلہ دیشی حکومت کی کرفیو میں مزید نرمی

طلباء قائدین کا وزیرِ داخلہ اور وزیرِ تعلیم کی برطرفی اور وزیرِ اعظم کی طرف سے معافی مانگنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بنگلہ دیش کے طلباء نے سول سروس کی خدمات حاصل کرنے کے قوانین کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کے مستقبل کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد حکومت نے جمعرات کو ملک گیر کرفیو میں مزید نرمی کر دی۔ یہ مظاہرے گذشتہ ہفتے مہلک بدامنی کی وجہ بن گئے تھے۔

پولیس اور ہسپتالوں کی اطلاعات پر مبنی اے ایف پی کے شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے کے تشدد میں کم از کم 191 افراد ہلاک ہوئے جن میں متعدد پولیس افسران بھی شامل تھے۔ یہ واقعات وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے دور کی بدامنی کے بدترین ایام میں سے ہیں۔

ہزاروں فوجی اب بھی شہروں میں گشت کر رہے ہیں اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کافی حد تک برقرار ہے لیکن احتجاجی قائدین کی جانب سے نئے مظاہروں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرنے کے بعد سے جھڑپیں کم ہو گئی ہیں۔

بدامنی کے عروج پر نافذ کردہ کرفیو میں حسینہ کی حکومت نے ایک اور نرمی کا حکم دیا ہے اور صبح 10:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک سات گھنٹے تک آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دے دی۔

20 ملین آبادی پر مشتمل ایک وسیع و عریض دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکیں صبح کے وقت مسافروں کی آمدورفت سے کھچاکھچ بھر گئیں جو چند دن پہلے پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کی وجہ سے تقریباً ویران ہو گئی تھیں۔

بینک، سرکاری دفاتر اور ملک کی معاشی طور پر اہم گارمنٹس فیکٹریاں گذشتہ ہفتے بند ہونے کے بعد بدھ کو دوبارہ کھل گئی تھیں۔

طلباء قائدیں نے جمعرات کو ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ طے کیا جائے کہ آیا احتجاج میں تؤقف کو دوبارہ توسیع دی جائے جو جمعہ کو ختم ہونے والا ہے۔

اس ماہ کی ریلیوں کے انعقاد کے ذمہ دار اور امتیازی سلوک کے مخالف طلباء کے گروپ نے کہا کہ اسے حکومت سے متعدد رعایتوں کی توقع تھی۔

گروپ کے ایک رابطہ کار آصف محمود نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم طلبا کے اجتماعی قتل پر وزیرِ اعظم شیخ حسینہ سے قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہم وزیرِ داخلہ اور وزیرِ تعلیم کی برطرفی بھی چاہتے ہیں۔"

محمود نے مزید کہا کہ بدامنی میں اموات کی تعداد کم بتائی گئی اور ان کا گروپ تصدیق شدہ اموات کی خود اپنی فہرست پر کام کر رہا تھا۔

اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے تشدد شروع ہونے کے بعد سے پولیس نے کم از کم 2500 افراد کو گرفتار کیا۔

مظاہرے جون میں ایک سکیم دوبارہ متعارف کروانے کے بعد شروع ہوئے جس میں مخصوص امیدواروں کے لیے نصف سے زیادہ سرکاری ملازمتیں محفوظ کر دی گئی تھیں جن میں 1971 کی جنگ کے سابق فوجیوں کی اولاد کے لیے تقریباً ایک تہائی ملازمتیں شامل تھیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں تقریباً 18 ملین نوجوان بے روزگار ہیں اور اس اقدام سے ملازمتوں کے شدید بحران کا سامنا کرنے والے گریجویٹ شدید پریشان ہو گئے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ اس کوٹہ کا استعمال حسینہ کی عوامی لیگ کے وفاداروں کے لیے عوامی ملازمتوں کے ڈھیر لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اتوار کو مخصوص ملازمتوں کی تعداد میں کٹوتی کی لیکن مظاہرین کی طرف سے کوٹہ مکمل طور پر ختم کرنے کے مطالبات پورا نہیں کیے۔

76 سالہ حسینہ 2009 سے ملک پر حکمرانی کر رہی ہیں اور جنوری میں انہوں نے اپنا مسلسل چوتھا انتخاب حقیقی مخالفت کے بغیر ووٹ ملنے کے بعد جیتا تھا۔

ان کی حکومت پر انسانی حقوق کے گروپوں کا یہ الزام بھی ہے کہ وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہیں جس میں اپوزیشن کے کارکنان کا ماورائے عدالت قتل بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں