سلمان رشدی پر ناکام قاتلانہ حملہ کرنے والے کے خلاف فرد جرم عائد
ھادی ماتر پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر حزب اللّٰہ کے ایماء پر شیطانی آیات نامی متنازع کتاب تصنیف کرنے والے ادیب سلمان رشدی پر حملہ کیا تھا۔ یہ الزام مقدمہ سے متعلق دستاویزات سے معلوم ہوا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس لبنانی باشندے کو واضح طور پر ایرانی حمایت یافتہ گروپ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ کہ وہ اس وجہ سے سلمان رشدی پر حملہ کرنے کا مرتکب ہوا ہے۔
26 سالہ ھادی ماتر لبنانی نژاد امریکی شہری ہے۔ اس پر اس سے پہلے نیویارک کی ایک عدالت میں 2022 میں چاقو گھونپنے کے سلسلے میں مقدمہ چل چکا ہے۔ اب اس پر بڑی جیوری میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
جیوری تین ججوں پر مشتمل ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اسے حملہ کے لیے اسلحہ غیر ملکی دہشت گرد تنظیم دیا۔ واضح رہے یہ فرد جرم 17 جولائی کو عائد کی گئی ہے۔
تقریباً دو سال پہلے ماہ اگست 2022 میں 77 سالہ رشدی کو ھادی ماتر نے مبینہ طور پر اس کی دائیں آنکھ کو زخمی کیا تھا۔ سلمان رشدی نیویارک میں ایک ثقافتی تقریب میں شریک تھا۔ جہاں اسے 10 بار وار کر کے بری طرح گھائل کیا گیا۔
سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام کی توہین پر مبنی 1988 میں ایک ناول 'شیطانی آیات' کے نام سے لکھا تھا۔ جسے پوری دنیا کے مسلمانوں نے ناپسند کیا اور اس کی مذمت کی تھی۔ جبکہ ایرانی رہبر روح اللّٰہ خمینی نے فتویٰ دیا تھا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی مصنف کو قتل کر دے۔
بعد ازاں لبنانی ملیشیا حزب اللّٰہ نے اس فتوے کو آگے بڑھایا اور اختیار کر لیا کہ وہ اس پر عمل کرے گی۔ یہ بات امریکی ایجنسی 'ایف بی آئی' نے بتائی ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے اپنے ایک الگ بیان میں کہا ہے ’’کہ نیویارک میں 2022 میں سلمان رشدی پر کیا گیا حملہ دہشت گردی تھا اور یہ حزب اللّٰہ کے کہنے پر کیا گیا تھا۔‘‘
'اقدام دہشت گردی'
ستمبر 2020 میں ماتر نے حزب اللّٰہ سے اس سلسلے میں مدد مانگی اور حزب اللّٰہ نے اس کو روح اللّٰہ خمینی کا فتویٰ دیا۔ یہ بات امریکی محمکہ انصاف نے شامل کی ہے۔
ماتر اب نیویارک کی عدالت میں قاتلانہ حملہ کے حوالے سے سماعت کا انتظار کر رہا ہے۔ ماتر نے کہا کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔ اگر اسے سزا ہوئی تو یہ 25 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس کیس کی سماعت 15 اکتوبر سے شروع ہوئی تھی۔ ماتر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ اس نے سلمان رشدی کے ناول کے صرف دو صفحے پڑھے ہیں۔ یہ دو صفحے پڑھ کر اسے اندازہ ہوا کہ مصنف نے اسلام پر حملے کیے ہیں۔
'شیطانی آیات' لکھنے کے فوری بعد سے سلمان رشدی مسلمانوں سے چھپتا پھر رہا ہے۔ تاہم اسے امریکہ وبرطانیہ نے اس دوران خصوصی سکیورٹی فراہم کی ہے۔ وہ پہلے مرحلے پر لندن میں رہائش پذیر ہوا اور اب پچھلے 20 سال سے نیویارک میں مقیم ہے۔