مجھے بکنی پر مجبور نہ کریں میں حجاب پہننا چاہتی ہوں : مصری کھلاڑی کا اصرار
ساحلی والی بال کے کھیل میں مصر کی قومی ٹیم کی معروف کھلاڑی دعاء الغباشی نے فرانس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیرس اولمپکس 2024 میں مقابلے کے لیے خواتین کھلاڑیوں کو حجاب اتارنے اور بکنی پہننے پر مجبور کرنے کو مسترد کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ فرانس کی اولمپیئن ایتھلیٹ سونکامبا سیلا نے پیرس اولمپکس کے آغاز سے چند روز پہلے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے حجاب کے سبب افتتاحی تقریب میں شریک نہیں ہوں گی۔
مصر کی 28 سالہ کھلاڑی دعاء نے جمعرات کے روز سویڈن کے اخبار "ایکسپریسن" کو ایک انٹرویو میں کہا کہ "میں حجاب پہن کر کھیلنا چاہتی ہوں اور وہ بکنی پہن کر ... اس میں کوئی مسئلہ نہیں ، ہم صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام مذاہب اور مختلف ثقافتوں کا احترام کیا جائے"۔
دعا کا مزید کہنا تھا کہ "آپ مجھے ان کھیلوں میں شرکت کے لیے بکنیی پہننے پر مجبور نہ کریں اور میں آپ سے حجاب پہننے کا مطالبہ نہیں کروں گی۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ بتائے کہ دوسرے کیا چاہتے ہیں، تمام لوگوں کو اس بات کی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں"۔
دعاء الغباشی نے والی بال کی بین الاقوامی فیڈریشن کے فیصلے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں نے حجاب پہننے کی اجازت کے فیصلے پر سکون محسوس کیا، یہ اچھی بات ہے کیوں کہ حجاب میری شناخت کا حصہ ہے تاہم میں اسے دوسروں پر ہر گز مسلط نہیں کروں گی، ہر کسی کو آزادی ہونی چاہیے کہ وہ جو چاہے کرے"۔
پیرس اولمپکس 2024 کے سلسلے میں جمعرات کے روز ساحلی والی بال خواتین مقابلے میں ہسپانیہ کی ٹیم نے مصر کی ٹیم کو شکست دے دی۔