بنگلہ دیش مظاہرین ہلاکتوں کی تعداد 300 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بنگلہ دیش میں میرٹ پر نوکری اور روزگار کا نظام رائج کرنے والے مظاہرین کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ اتوار کے روز فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے 94 مزید بنگلہ دیشی شہریں کو ہلاک کیا ہے، اس طرح مظاہرین کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 300 کو چھو گئی ہے۔

حسینہ واجد اور ان کی حکومت ان بنگلہ دیشی نوجوان مظاہرین کے لیے موت کا استعارہ بنتی جارہی ہے، حکومت نے ان کے ساتھ 'زیرو ٹالرینس ' کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے ۔ عملا حکومت کی غیر علانیہ پالیسی یہ ' مار مکاؤ ' کی ہے۔ اس سے پہلے یہ پالیسی صرف سیاسی مخالفین تک محدود رہی تھی، جو نئے مدت حکومت شروع ہونے کے بعد 'ٹرکل ڈاؤن 'کر کے نوجوانوں اور طلبہ تک محیط ہو گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں ہلاک کیے گئے زیادہ بلکہ بہت زیادہ تعداد نوجوانوں ہی کی ہے۔ ان مظاہرین نے ہفتہ کے روز سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا تھا۔ اتوار کا دن سول نافرمانی کی تحریک کا پہلا دن تھا۔ اس دوران 94 مظاہرین مار دیے گئے۔

آج پیر کے روز طلبہ اور نوجوانوں نے پھر سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے سامنے بنگلہ دیشی فوج اور پولیس کے جوان ہوں گے۔ خطرہ ہے کہ یہ سلسلہ ابھی رک نہیں پائے گا، کیونکہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اس تحریک کے ساتھ جڑ گئی ہے۔

ڈھاکہ میں آج حکومت کی طرف سے بھی فوج اورپولیس کی زیادہ نفری تعینات کی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر کی طرف جانےوالی سڑکوں پر جگی جگی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں