چین : غیر قانونی قبر کشائی اور میتوں کی فروخت کا اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

چین میں سرکاری میڈٰیا نے بدھ کے روز بتایا کہ ملک میں مردوں کی تجہیز و تکفین سے متعلق خدمات کے شعبے میں وسیع پیمانے پر بد عنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس شعبے کے ذمے دار عہدے داران طویل عرصے سے غیر قانونی فیس اور غیر قانونی طریقے سے قبر کشائی جیسے جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایک چینی کمپنی کا اسکینڈل منظر عام پر آیا جو انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت اور ہزاروں لاشوں کی چوری اور فروخت سے متعلق ہے۔ اس بات کا انکشاف ریاست کے حمایت یافتہ ایک اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا۔

انگریزی زبان کے اخبار "چائنا ڈیلی" کے مطابق حکام کی جانب سے آنھوے، کوانگڈونگ، جیانگسو، جیانگشی، گیلین، لیاؤننگ، سچوان اور یوننان صوبوں میں تحقیقات کی گئیں۔ ان کے نتیجے میں مذکورہ صوبوں میں تجہیز و تکفین کے اداروں اور مماثل انجمنوں کے ملازمین کو خلاف ورزیوں کے کئی الزامات کا سامنا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ رواں سال تحقیقات کے آغاز کے بعد سے درجنوں کیس سامنے آ چکے ہیں۔ متعلقہ افراد میں بہت سے لوگ اس شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں