قاھرہ مذاکرات سے قبل فلاڈیلفیا محور سے متعلق نیتن یاہو کی بلنکن سے ملاقات متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

نیتن یاہو نے غزہ اور مصر کی سرحد پر فلاڈیلفیا کے محور پر اسرائیلی فوج کے موجود رہنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان اسرائیلی مذاکرات کاروں کی اس رائے کے باوجود کردیا ہے کہ یہ مطالبہ کسی بھی معاہدے کے امکان کو روک دے گا۔

نیتن یاہو کا یہ اعلان بلنکن کے اتوار کو تل ابیب پہنچنے کے فورا بعد کیا گیا، بلنکن آج پیر کو نیتن یاھو سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو لیکس شائع کرتے رہتے ہیں ۔ یہ لیکس معاہدے تک پہنچنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ان لوگوں نے کئی مہینوں تک کہا ہے کہ حماس معاہدے کی شرط کے طور پر جنگ کو ختم کرنے پر کبھی رضامند نہیں ہوگی۔ انہوں نے حماس کے مطالبے کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی ہے ۔ وہ تب بھی غلط تھے اور آج بھی غلط ہیں۔ وزیر اعظم نے ثابت قدمی کے ساتھ اس بنیادی مطالبے پر عمل کیا ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ جنگ کے اہداف کا حصول ہے۔ حماس نے اپنا موقف بدل لیا ہے۔ آج بھی وزیراعظم کا اصرار ہے کہ ہم دہشت گردوں کو دوبارہ مسلح ہونے سے روکنے کے لیے فلاڈیلفیا کے محور میں موجود رہیں گے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نیتن یاہو اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے جس سے زندہ یرغمالیوں کی تعداد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو اور جو جنگ کے تمام اہداف کو حاصل کرنے کی صلاحیت حاصل ہو۔

اسرائیلی میڈیا نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حکومت، فوج اور شن بیٹ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد قاہرہ روانہ ہوا۔ اس تناظر میں نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اب بھی مصر کے ساتھ "فلاڈیلفیا" کے سرحدی محور میں رہنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ لیکس سے حماس کے ساتھ تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔

گردش کرنے والی لیکس کے مطابق نیتن یاہو نے مذاکراتی وفد سے کہا ہے کہ فلاڈیلفیا کے محور پر کوئی رعایت نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جہاں دوبارہ جایا جا سکے۔ مذاکراتی وفد نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کہا ہے کہ فلاڈیلفیا کا محور پر کسی بھی وقت واپس جایا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع یوو گیلنٹ سے متعلق نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر کسی معاہدے تک پہنچے بغیر اسرائیل علاقائی جنگ میں پڑ سکتا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کوشش کے لیے دوحہ میں جمعرات اور جمعہ کو ہونے والی ملاقاتوں کے بعد رواں ہفتے قاہرہ میں امریکی، مصری اور قطری ثالثی کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ پہلے کے کسی بھی وقت سے زیادہ قریب آگیا ہے ۔ تاہم حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے کہا ہے کہ یہ ایک "فریب" ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے اسرائیل کے نئے دورے سے قبل۔ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر حماس پر براہ راست دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ نیتن یاھو نے کہا ہم مذاکرات کر رہے ہیں، ایسا منظرنامہ نہیں جہاں ہم صرف دے رہے ہوں۔ ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم لچکدار ہوسکتے ہیں اور کچھ چیزوں کے بارے میں ہم لچکدار نہیں ہوسکے۔

نیتن یاھو نے کہا ہم قیدیوں کی واپسی کے لیے زبردست کوششیں کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ہم اپنے قائم کردہ اصولوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہیں۔ واضح رہے امریکی وزیر خارجہ آج نیتن یاھو سے ملاقات کریں گے۔ غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد بلنکن کا یہ اسرائیل کا 9 واں دورہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں