فیسٹیول میں چاقو کے حملے میں تین افراد ہلاک؛ جرمن پولیس کی حملہ آور کی تلاش جاری
حکومت عوام کے تحفظ کے لیے قوانین مزید سخت کرنے کی ارادہ رکھتی ہے
جرمن پولیس نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ بدستور نامعلوم حملہ آور کی تلاش کر رہی ہے جس نے مغربی شہر سولنگن میں ایک میلے کے دوران چاقو سے حملہ کر کے تین افراد کو ہلاک اور دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
پولیس نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا کہ آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے پانچ کی حالت نازک بتائی گئی۔ پولیس نے اس سے پہلے شدید زخمیوں کی تعداد چار بتائی تھی۔
پولیس نے کہا، "متأثرین اور گواہان دونوں سے فی الحال تفتیش ہو رہی ہے۔ پولیس اس وقت ایک بڑی ٹیم کے ساتھ مجرم کو تلاش کر رہی ہے۔"
پولیس نے بتایا کہ حملہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق رات 9:40 بجے کے قریب ہوا جب اس شخص نے چاقو سے متعدد افراد پر حملہ کر دیا۔
سولنگن کے میئر ٹم اولیور کرزباخ نے ایک بیان میں کہا، "یہ بات میرے لیے بہت دلگیر ہے کہ ہمارے شہر پر حملہ ہوا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں جن کو ہم کھو چکے ہیں۔ میں ان تمام لوگوں کے لیے دعا گو ہوں جو اب بھی اپنی زندگیوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔"
جرمنی میں چاقو کے مہلک وار اور فائرنگ نسبتاً غیر معمولی ہیں۔
پولیس نے بتایا ہے کہ یہ حملہ قصبے کی 650 ویں سالگرہ کے اعزاز میں منعقد ہونے والے میلے میں ہوا۔
ریاست کے وزیرِ داخلہ ہربرٹ ریول نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صحافیوں کو بتایا کہ یہ انسانی جان پر ہدفی حملہ تھا لیکن اس کے محرکات کے بارے میں کسی قیاس آرائی سے انکار کر دیا۔
جرمن حکومت اجازت شدہ لمبائی کو کم کر کے ان چاقوؤں کے بارے میں قوانین کو سخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو عوام میں لے جائے جا سکیں۔
جون میں جرمنی کے شہر مین ہائیم میں دائیں بازو کے مظاہرے پر حملے کے دوران ایک 29 سالہ پولیس اہلکار چاقو کے وار سے ہلاک ہو گیا تھا۔
2021 میں ایک ٹرین میں چاقو کے حملے میں کئی لوگ زخمی ہو گئے تھے۔