عالمی پروگرام برائے خوراک نے اسرائیلی فائرنگ سے تنگ آکر غزہ میں امدادی کام روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے ادارے عالمی پروگرام برائے خورک نے غزہ میں اپنی سرگرمیوں اور کارکنوں کی نقل و حرکت کو روک کر انسانی بنیادوں پر اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ خوراک کے عالمی پروگرام نے یہ انتہائی اقدام اس وقت کیا جب اس کی ایک گاڑی کو ایک روز قبل اسرائیلی چیک پوسٹ پر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

خوراک کے عالمی پروگرام کے سربراہ سنڈی مکین کا کہنا ہے کہ یہ قابل قبول نہیں ہے ۔ ان کے مطابق یہ واقعہ کئی ایسے ہی واقعات کا حصہ ہے۔ جس میں منگل کے روز ہماری گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے۔

خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی فرد زخمی نہیں ہوا تھا۔ مگر خیال رہے چند ہفتوں کے دوران یہ دوسرا واقعہ ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے واقعے پر عالمی خوراک پروگرام نے فلسطینیوں کے لیے جاری کام کو احتجاج کے طور پر روک کر اسرائیلی فورسز کو سزا دینے کی ترکیب ڈھونڈی ہے۔

غزہ میں چالیس پزار پانچ سو سے زیادہ فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے۔ تاہم حماس ثالثوں کی درخواست پر اسرائیل اور امریکہ دونوں کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں بیٹھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے کی طرف سے فائرنگ کے اس واقعے پر انسانی بنیادوں پر خوراک کی تقسیم کا کام روکنے سے متعلق اپنے بیان کے ساتھ اس ٹرک کی تصویر بھی شیئر کی ہے جو فائرنگ کا نشانہ بنا اور اس کی کھڑکی گولی سے ٹوٹ گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس ٹرک پر کئی گولیاں چلائی گئی ہیں۔اس سے پہلے اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا اسرائیلی فوج کی فائرنگ سےاس وہیکل کو نقصان پہنچا ہے جو انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے وہیکلز کے قافلے میں شامل تھا اور غزہ میں خوراک کی ترسیل میں مصروف تھا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس ٹرک کو اس کے باوجود نشانہ بنایا کہ یہ ٹرک اسرائیلی فوج کے اس رابطے میں منسلک تھا جو غزہ میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفنے دوجارک کی طرف سے دیے گئے بیان کے مطابق اس کے باوجود اقوام متحدہ کی گاڑیوں پر اب تک دس بار حملے ہو چکے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا یہاں تک کہ اسرائیلی فوج نے گاڑیوں کی سامنے کی کھڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترجمان نے سخت افسوس کے ساتھ کہا ہے کہ ہمارے پاس اس کے سواکوئی راستہ نہیں، ہم اس طرح کے مائنڈ سیٹ کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکتے ہیں جو ہم پر بھی فائرنگ کر رہا ہے۔ واضح رہے اقوام متحدہ کی یہ بے بسی اس کے باجود ہے کہ اسرائیلی ریاست کا وجود اقوام متحدہ کی قرارداد کے ہی مرہون منت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں