ترکیہ میں ایک ہفتے کے دوران داعش کے ایک سو سے زائد ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات ترکیہ کے حکام نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔ یہ کسی دہشت گرد تنطیم کے کے ارکان کو گرفتار کرنے کی تازہ ترین مہم کا نتیجہ ہے۔
ترکیہ کو داعش کی طرف سے 2017 سے حملوں کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ داعش نے 2017 میں ایک نائٹ کلب پر حملہ کیا تھا۔ جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے 'دہشت گردوں کے خلاف ترکیہ میں حالیہ مہم پورے ملک پر محیط رہی ہے۔ دارالحکومت انقرہ کے علاوہ ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول میں بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔'
ان کے مطابق اس ماہ کے دوران 119 مشتبہ افراد کو مختلف مقامات پر چھاپوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے 99 کو ماہ اگست کے شروع میں حراست میں لیا گیا تھا۔
واضح رہے 2019 میں جب سے داعش کی قائم کردہ خلافت کا خاتمہ ہوا ہے اس کے کئی مشتبہ ارکان کی ایک تعداد ترکیہ میں مقیم ہونے کی کوشش میں رہی ہے۔ ترکیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ 2023 سے اب تک اس گروپ سے وابستہ 3600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔