ترک حکام نے ایک مشہور ترک ٹویٹر پر سرگرم کارکن کو نفرت اور تشدد پر اکسانے کے دو الگ الگ الزامات میں حراست میں لے لیا۔ اس کی گرفتاری کو ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اعلان کیا اور مقامی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا ۔ اس سوشل میڈیا کارکن کو کئی سال تک قید کی سزا کاٹنا پڑ سکتی ہے۔
ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے اعلان کیا کہ سکیورٹی حکام نے ایکشن لیتے ہوئے مشہور ٹویٹر اوگوزان اتسیز کو گرفتار کر لیا۔ اس پر عدلیہ کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور حکمران "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" پارٹی کے حامیوں کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس پر عربوں بالخصوص شامی مہاجرین کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
ترک وزیر داخلہ کے بیانات کے مطابق ترک ٹویٹر کارکن پر الزام تھا کہ اس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ترک صدر کی توہین کے لیے استعمال کیا اور اس نے شامی اور عرب پناہ گزینوں کے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے۔ ترک ٹویٹر کا نام ڈی گیری ہے۔ اس کا اصل خاندانی نام شاہین ہے۔ توقع ہے کہ اسے برسوں قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترک قانون صدر اور سرکاری اہلکاروں کی توہین کرنے کی سزا دیتا ہے۔