امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل اور حماس کو اس ہفتے کے آخر میں قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے حتمی تجویز پیش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس تجویز کو اگر فلسطینی اور اسرائیلی فریق قبول کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ مذاکرات کے خاتمے کی علامت ہوگا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مصر کی جانب سے یہ اعلان کرنے کی توقع ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے میں یقیناً کئی چیزیں شامل ہیں۔
قاہرہ نیوز کے مطابق پیر کی صبح مصر کے ایک اعلیٰ ذرائع نے کہا کہ مصر کسی بھی امن معاہدے کے تعین کرنے والوں پر زور دیتا ہے کہ وہ فلاڈیلفی کوریڈور اور رفح کراسنگ میں اسرائیلی موجودگی کو واضح طور پر مسترد کرنا ہے۔ مصری ذریعے نے مزید کہا کہ موجودہ جنگ کا جاری رہنا اور اس کے علاقائی پھیلاؤ کا امکان انتہائی خطرناک ہے۔ اس کے ہر سطح پر سنگین نتائج ہوں گے۔
مصری ذریعہ نے اسرائیلی حکومت کو جنگ بندی کے معاہدے تک نہ پہنچنے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا اور کہا ہے وہ اپنے اندرونی بحران کو چھپانے کے لیے زمین پر ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپنی طرف سے حماس میں مذاکراتی فائل کے ذمہ دار اہلکار خلیل الحیہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ فلاڈیلفی اور نٹساریم کورڈورز اور رفح کراسنگ سے اسرائیلی انخلا کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
خلیل الحیہ نے مزید کہا کہ حماس اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی نئی شرائط پر بات چیت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ حماس نیتن یاہو کو مغربی کنارے کی صورتحال کو بھڑکانے اور پورے خطے میں آگ پھیلانے کی کوشش کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔