'حسین' غیر ملکی جاسوسوں سے ہوشیار رہیں: چین کا طلبا کو انتباہ

چین اور مغربی ممالک طویل عرصے سے جاسوسی کے الزامات کا تبادلہ کرتے رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

چین کی سرکاری سکیورٹی ایجنسی نے بدھ کے روز حساس معلومات تک رسائی کے حامل طلبا کو خبردار کیا کہ وہ "وجیہہ مردوں" یا "حسین خواتین" کے دام میں نہ آئیں جو انھیں غیر ملکی طاقتوں کے لیے جاسوسی پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

بیجنگ کی وزارت برائے ریاستی سلامتی (ایم ایس ایس) نے ان دعوؤں کو عام کیا ہے کہ گذشتہ سال ایک وی چیٹ اکاؤنٹ کھولنے کے بعد سے غیرملکی جاسوس وفادار چینیوں کو اپنے ملک سے بےوفائی پر آمادہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں -- اکثر غیر معمولی طریقوں سے۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی جاسوسوں کے پاس "بے شمار بہروپ ہیں اور وہ اپنی صنف تک بدل سکتے ہیں" اور شہریوں سے ملک کو لاحق خطرات کے خلاف "ایک اعشاریہ چار بلین دفاعی صفیں بنانے" کا مطالبہ کیا ہے۔

اور اس نے بدھ کو چینی طلباء کو مائل کرنے کے لیے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر "رومانی جال" بچھانے کا الزام لگایا۔

وزارت نے کہا، غیر ملکی جاسوس طلباء و طالبات کو پھانسنے کے لیے ملازمت کے اشتہارات حتیٰ کہ آن لائن ڈیٹنگ کا استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر جن لوگوں کو "حساس سائنسی تحقیقی ڈیٹا" تک رسائی حاصل ہے تاکہ وہ خفیہ معلومات ان جاسوسوں کے حوالے کر دیں۔

اس نے خبردار کیا، "وہ خود کو 'وجیہہ مرد' یا 'حسین خواتین' کا بہروپ دے سکتے ہیں۔۔ اور نوجوان طلباء کو 'رومانی جال' میں پھنسا سکتے ہیں۔"

ایم ایس ایس نے یہ نہیں بتایا کہ مبینہ سازش کے پیچھے کون سے ممالک تھے۔

لیکن اس نے خبردار کیا کہ جاسوس خود کو یونیورسٹی کے معلمین، سائنسی محققین یا مشیران کا روپ دھار کر طلباء کو نقد رقم کا لالچ دے رہے ہیں جسے اسے "ہدفی دراندازی" قرار دیا ہے۔

اس ماہ ایک اور دلخراش کہانی میں ایم ایس ایس نے عوام کو خبردار کیا کہ "بھیڑوں کے روپ میں بھیڑیوں" سے ہوشیار رہیں -- غیر ملکی ایجنٹ "اچھے سماروی" ہونے کا بہانہ کرتے ہیں۔

اور جون میں اس نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس پر ایک ایسے جوڑے کو بھرتی کرنے کا الزام لگایا جو برطانیہ کے لیے جاسوسی کرنے کی غرض سے مرکزی حکومت کے لیے کام کرتا تھا۔

عشروں میں چین کے طاقتور ترین اور آمرانہ رہنما ژی جن پنگ کے تحت بیجنگ نے شدید نوعیت کے انتباہات بڑھا دیئے ہیں کہ غیر ملکی طاقتیں ملک کا عروج ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

چین اور مغربی طاقتوں نے طویل عرصے سے جاسوسی کے الزامات کا تبادلہ کیا ہے لیکن مبینہ انفرادی مقدمات کی تفصیلات کا انکشاف حال ہی میں کرنا شروع کیا ہے۔

مئی میں تفتیش کاروں نے ایک جرمن ایم ای پی کے برسلز کے دفتر کی تلاشی لی جس پر چین کے لیے جاسوسی کا شبہ تھا۔

اور منگل کو نیویارک ریاست کے گورنر کے معاون کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک سابق اہلکار کو گرفتار کیا گیا اور اس پر لاکھوں ڈالر کے عوض چین کے جاسوسی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں