کریملن نے جمعہ کو کہا، روس کے سرکاری نیوز نیٹ ورک 'رشیا ٹوڈے' [آر ٹی] پر واشنگٹن کی پابندیوں کے جواب میں روس امریکی میڈیا اداروں پر پابندیاں عائد کرے گا۔
امریکہ نے روسی ادارے کے دو ملازمین پر فرد جرم عائد کی اور بدھ کے روز اس کے ایڈیٹرز پر پابندیاں عاَئد کر دی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2024 کے آئندہ امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ریاستی آر آئی اے نووستی نیوز ایجنسی کو بتایا، "ایک متوازی ردِ عمل ممکن نہیں ہے۔ امریکہ میں کوئی سرکاری خبر رساں ایجنسی نہیں ہے اور کوئی سرکاری ٹی وی چینل نہیں ہے۔"
انہوں نے کہا، "لیکن یہاں یقیناً ایسے اقدامات ہوں گے جو ان کے میڈیا کو ان کی معلومات پھیلانے سے روکیں گے۔"
پیسکوف نے اپنی یوکرین جارحیت کے دوران ماسکو کی بے مثال سنسرشپ کو بھی درست قرار دیا جو معلومات پر روس کی سخت گرفت کا نادر اعتراف ہے۔
انہوں نے خبر رساں ایجنسی ٹاس کو الگ الگ ریمارکس میں کہا، "ہم جس حالتِ جنگ میں ہیں، اس میں پابندیاں جائز ہیں اور سنسر شپ بھی۔"
پیسکوف نے یہ نہیں بتایا کہ روس امریکی میڈیا کے خلاف کیا پابندیاں عائد کرے گا۔
جب ماسکو نے یوکرین پر حملہ کیا تو زیادہ تر امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس نے تنازعہ پر آزادانہ رپورٹنگ کو نشانہ بنانے والے قوانین کے درمیان اپنے عملے کو روس سے کم کر دیا یا نکال لیا۔
بدھ کے روز امریکی محکمۂ خزانہ نے جن 10 افراد اور دو اداروں پر پابندی عائد کی، ان میں آر ٹی کی ایڈیٹر انچیف مارگریٹا سائمونیان اور ان کی نائب الیزاویٹا بروڈسکیا شامل تھیں۔
امریکی حکام نے طویل عرصے سے غیر ملکی طاقتوں کی آئندہ امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اور ماسکو پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کے درمیان 2016 کے مقابلے میں امریکی ووٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔