الجزائر میں ملک کے لیے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ

24 ملین سے زیادہ ووٹرز تین امیدواروں میں سے ایک منتخب کریں گے،عبد المجید تبون کا پلڑا بھاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

الجزائر کے لوگ ملک کے لیے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دے رہے ہیں۔ الجزائر کے 24 ملین سے زیادہ ووٹرز اپنے نئے صدر کو تین امیدواروں میں سے منتخب کرنے کے لیے ووٹ دے رہے ہیں ۔ ان تینوں میں خاص طور پر عبدالمجید تیبون نمایاں ہیں۔

24 ملین سے زیادہ الجزائری ووٹرز نے ہفتے کے روز صدارتی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ٹرن آؤٹ کی شرح زیادہ رہی تو صدر عبدالمجید تبون کے دوسری بار جیتنے کی توقع زیادہ ہے۔ ملک بھر کے پولنگ سٹیشنز صبح کھلے اور شام سات بجے بند ہو جائیں گے۔ رات کو ہی نتائج ظاہر ہونے کی توقع ہے تاہم نتائج کا باضابطہ اعلان کل اتوار کو کیا جائے گا۔

سبکدوش ہونے والے 78 سالہ صدر عبدالمجید تبون کو پارلیمانی اکثریتی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان جماعتوں میں سب سے اہم نیشنل لبریشن فرنٹ ہے جو پہلے واحد جماعت تھی۔ پھر اسلامی پارٹی ہے جس کا امیدوار 2019 میں دوسرے نمبر پر آیا تھا۔

عبدالمجید تبون کا مقابلہ دو امیدواروں سے ہے، اسلامک سوسائٹی فار پیس موومنٹ کے سربراہ 57 سالہ عبدالعلی حسنی شریف ہیں۔ یہ ایک پبلک ورکس انجینئر اور سابق صحافی ہیں۔ دوسرے سوشلسٹ فورسز فرنٹ کے سربراہ 41 سالہ یوسف آوشیش ہیں۔ یہ الجزائر کی سب سے پرانی اپوزیشن جماعت ہے۔ یہ وسطی مشرقی الجزائر میں قبائل کے علاقے کی جماعت ہے۔

یہ انتخابات اس وقت منعقد ہونے والے تھے جب تبون کی مدت دسمبر میں ختم ہو رہی تھی لیکن انہوں نے مارچ میں سات ستمبر کو قبل از وقت انتخابات کی تنظیم کا اعلان کیا۔

پانچ سال قبل تبون کو صدارت تک پہنچانے والے انتخابات میں 60 فیصد کا ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھا گیا تھا۔ اس وقت جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے "حراک" مظاہرے اپنے عروج پر تھے۔ انہوں نے 58 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

حالیہ عرصے میں تبون اور ان کے حامیوں کے ساتھ ساتھ ان کے حریفوں نے اگست کے وسط سے پورے قومی علاقے میں کئی چکر لگائے ہیں اور ووٹروں سے الیکشن میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ الیکشن گرمی کے موسم میں آرہے ہیں۔

آزاد نیشنل الیکشن اتھارٹی کے مطابق ملک سے باہر الجزائر کے تارکین وطن نے پیر سے اپنا ووٹ ڈالنا شروع کیا تھا۔ ان کی تعداد 8 لاکھ 65 ہزار 490 ہے۔ ملک کے اندر دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے موبائل ووٹنگ آفس بھی مختص کیے گئے ہیں۔ تینوں امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران اپنی تقریروں کو سماجی اور معاشی مسائل پر مرکوز رکھا ہے۔

بہتر سماجی اور اقتصادی نتائج کی بنیاد پرتبون نے اجرتوں میں نئے اضافے، ریٹائر ہونے والوں کے لیے پنشن، بے روزگاری کے معاوضے، 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ 4 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے اور الجزائر کو "افریقہ کی دوسری معیشت" بنانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافے کا وعدہ کیا ہے۔

الجزائر میں اپنی انتخابی مہم کے اختتام پر صدر نے نوجوانوں کو وہ درجہ دینے کا عہد کیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا وہ دوسری مدت کے لیے "نئے الجیریا" منصوبے کے نفاذ کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف تبون کے حریفوں نے الجزائر کے باشندوں کو مزید آزادی دینے کا وعدہ کیا۔ اوشیش نے صدارتی معافی اور قوانین پر نظرثانی کے ذریعے ضمیر کے قیدیوں کو رہا کرنے کے اپنے عزم کا اعلان کیا ہے۔ تیسرے امیدوار حسانی شریف نے 2019 میں سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو معزول کرنے والی تحریک "حراک " کی رفتار میں کمی کے بعد آزادیوں کا دفاع کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں