الجزائر کی قومی ٹیم کے مداح کی طرف سے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا مطالبہ کرنے والے بزرگ کو سٹیڈیم سے باہر نکالنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔
اس موقعے پر کچھ تماشائیوں نے بزرگ پر پیاز پھینکا اور اسے سٹیڈیم سے نکال باہر کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔
کچھ لوگوں نے ان کے رویے کو "ناقابل قبول" قرار دیا جبکہ دوسروں نے اس کا دفاع کیا اور کہا کہ بزرگ نے جو کیا اسے "آزادی رائے" کے تحت ایسا کرنے کا حق تھا۔
اس شخص کی کئی ویڈیوز اس موقع پر ریکارڈ کی گئیں جب الجزائر کی قومی ٹیم مراکش میں شیڈول 2025 افریقن کپ آف نیشنز کوالیفائرز کے فریم ورک میں اپنا میچ کھیل رہی تھی۔ میچ شروع ہونے سے کچھ گھنٹے قبل پہلی ویڈیو میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ بزرگ کو رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ خالی اسٹینڈز میں پرجوش میوزک کے ساتھ رقص کررہا ہے۔
ایک دوسری ویڈیو میں بھی انہیں دیکھا گیا جب وہ تماشائیوں سے مخاطب ہیں۔ اس پر تماشائیوں کی طرف سے ان پر پیاز پھینکا گیا۔ اس کے باوجود جب بزرگ کو بات جاری رکھتے دیکھا تو اسے پکڑ کر سٹیڈیم سے باہر نکال دیا گیا۔
جمعرات کی رات سے سوشل نیٹ ورکس پر اس کی ویڈیوز بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہیں۔ ان پر لوگوں نے بھرپور ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اسٹیڈیم میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کی بات پربعض صارفین نے اس کی حمایت کی اور اسے آزادی اظہار رائے کا حصہ قرار دیا جب کہ بعض نے اسے سیاسی امیدوار کی تشہیر کے مترادف قرار دیتے ہوئے بزرگ کی مخالفت کی۔
الجزائر میں آسات ستمبر ہفتے کے روز ملک کی مختلف ریاستوں میں قبل از صدارتی انتخابات ہونے کی توقع ہے۔ سبکدوش ہونے والے صدر عبدالمجید تبون سمیت تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔