لندن : مسلمان میئراورسابق وزیراعظم سوشل میڈیا پرنسل پرستانہ حملوں کی زد میں نمایاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لندن کا میئر اور سابق وزیر اعظم رشی سوناک عام انتخابات کے دوران برطانیہ کے نسل پرست طبقوں کی نفرت اور گالی گلوچ کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے رہے۔ اس امر کا اظہار برطانیہ میں نسل پرستوں کی طرف سے جاری مہمات کے ایک جائزے میں کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کا موقع یونیورسٹی آف شیفلڈ نے ملک میں نسل پرستی اور سماجی منافرت کی بڑھی ہوئی علامات ، واقعات اور حملوں کے باعث ضروری محسوس کیا ۔ معروف برطانوی اخبار گارجین نے پیر کے روز رپورٹ کیا ہے نسل پرستی کا نشانہ بننے والے اہم سیاتدانوں میں 14 شخصیات شامل ہیں۔

تاہم ان میں لندن کے میئر صادق خان ، سابق وزیراعظم رشی سوناک ، موجودہ وزیراعظم کیئر سٹارمر ، برطانوی پارلیمنٹ کے رکن ڈیان ایبٹ اور سابق وزیر داخلہ سویلا بریورمین سب سے نمایاں ہیں۔

یکم مئی سے تیس جولائی کے درمیان برطانیہ کے چھ سیاستدانوں کو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ بدسلوکی اور گالی گلوچ کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم رپورٹ میں اس میں نفرت کے لفظ کو استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔

مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر ایسی 85000 پوسٹس سامنے آئی ہیں۔ ان پوسٹوں میں گالی گلوچ اور ذاتی حملوں کے علاوہ نسل پرستانہ سے لے کر انتہائی رقیق حملے بھی شامل ہیں۔ جو نسل پرستانہ رویے کی بدترین مثال کہی جا سکتی ہے۔

تاہم رپورٹ اور اس کی اشاعت کے حوالے سے یہ کہیں نہیں ظاہر کیا گیا کہ نفرت اور نسل پرستی کو فروغ دینے والے ان جرائم میں ملوث کسی فرد کے خلاف قانون حرکت میں آیا ہو۔ جیسا کہ چند ماہ پیچھے برطانوی وزارت داخلہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی مبینہ طور پر یہود دشمنی اور نفرت کے قانون کی نظر سے دیکھتی رہی۔

البتہ محققین کا یہ خیال ہے کہ اس طرح کی پوسٹس کے ذریعے عالمی واقعات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ واضح رہے پچھلے مہینوں میں برطانیہ کی رشی سوناک حکومت اس طرح کے واقعات کو اتنا ہلکا لینے کو تیار نہیں تھی۔ کیونکہ وزارت داخلہ اور پولیس حکام مسلسل دباؤ میں تھے کہ عالمی واقعات پر ردعمل دینے والے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اسی تناظر میں برطانیہ کے ایک وزیر داخلہ کو اپنے عہدے سے الگ بھی ہونا پڑا تھا کہ وہ انتہائی حد تک پولیس سے مطالبے کرنے کے الزام کا شکار تھے۔

رپورٹ میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی کہ برطانیہ جیسے ملک میں نسل پرستانہ تبصروں کی تعداد میں اضافہ اور طاقت آنا ایک خوفناک رجحان کا اشارہ ہے۔

مگر اب بھی یورپی ممالک اور امریکہ سمیت کسی ملک میں یہ احساس حکومتوں، پارلیمان اور دانشوروں کی سطح پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ کہ ان ملکوں سے تیسری دنیا اور خصوصاً مسلمان ملکوں کے لوگوں کے خلاف جس طرح کا شدت پسندانہ بیانیہ اور پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں اس کے اثرات ان کی اپنی سوسائیٹیوں میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

رپورٹ میں صورتحال کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا 'نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کو ان نسل پرستانہ حملوں سے بچنے کے لیے واقعی بکتر بند انتظامات کی ضرورت ہے۔'

رپورٹ کے مطابق جن شخصیات کو زیادہ نفرت اور نسل پرستی کا شکار دیکھا گیا ہے ان کے لیے ماہ جون سب سے زیادہ بھاری رہا۔ اس دوران برطانیہ کی انتخابی مہم عروج پر تھی۔ جس طرح نسل پرست طبقات کا بھی دھندہ خوب چلا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں