غزہ میں اسرائیلی بمباری میں بچوں کی ہلاکتیں: پوپ فرانسس کی مذمت
پوپ کی سکولوں پر بمباری کے بارے میں بات، حماس اور اسرائیل دونوں پر تنقید کی
پوپ فرانسس نے جمعے کے روز غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے سکولوں پر بمباری کو ’کریہہ‘ عمل قرار دیا۔
سنگاپور سے روم واپسی کی پرواز پر پوپ نے اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ اسرائیل یا حماس جو اب گیارہ ماہ سے حالتِ جنگ میں ہیں، تنازعہ کو ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔ پوپ نے کہا، "مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔"
فرانسس جنوب مشرقی ایشیا اور اوشیانا کے 12 روزہ دورے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔
غزہ جنگ بندی اور حماس کے زیرِ حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبات کی حمایت کرنے والے پوپ نے کہا، "بعض اوقات مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو بہت زیادہ شدید ہے"۔
پوپ نے 40 منٹ کی پریس کانفرنس کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کملا ہیرس دونوں ہی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بغیر کسی وضاحت کے کہا، امریکی کیتھولک کو نومبر میں "کم برائی کا انتخاب" کرنا ہو گا۔
-
انڈونیشیا: پوپ فرانسس کے دورے پر دہشت گردی کی دھمکیاں، سات افراد گرفتار
پوپ کے دورے کے مقامات پر دہشت گردی کی دھمکیاں دی گئی تھیں
بين الاقوامى -
پوپ فرانسس کا جکارتہ میں استقلال مسجد کا دورہ، موسمیاتی تبدیلی ایک عام مسئلہ قرار
عالمی حدت سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے
بين الاقوامى -
پوپ فرانسس کا مسلم اکثریتی انڈونیشیا کا دورہ، مذہبی انتہا پسندی کے خلاف خبردار کیا
کسی خاص واقعے کا ذکر کیے بغیر انتہا پسندی اور عدم برداشت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ...
بين الاقوامى