بائیڈن کے نمائندے نے نیتن یاہو کو لبنان کے ساتھ وسیع جنگ کرنے سے خبردار کر دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے نمائندے ایموس ہوکشٹائن نے اسرائیل کے پانچویں دورے میں تل ابیب حکومت کو لبنان کے ساتھ جنگ وسیع کرنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

امریکی نمائندے نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو پیر کے روز ملاقات میں لبنان کے خلاف وسیع تک جنگ چھیڑنے کے خطرے سے متعلق تنبیہ کی۔ یہ بات تین با خبر ذرائع نے بتائی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ axios کے مطابق ایموس ہوکشٹائن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کو باور کرایا ہے کہ امریکا یہ نہیں سمجھتا کہ لبنان میں زیادہ وسیع لڑائی سے شمالی اسرائیل میں بے گھر اسرائیلیوں کی واپسی کا مقصد حاصل ہو سکے گا۔

اسی طرح امریکی نمائندے نے تل ابیب کو آگاہ کیا کہ حزب اللہ کے ساتھ بھرپور جنگ کے نتیجے میں خطے میں زیادہ وسیع اور زیادہ طویل لڑائی چھڑ سکتی ہے۔ ہوکشٹائن نے زور دیا کہ ان کا ملک سفارتی حل کے موقف پر قائم ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی سرحد پر اسرائیل کی جانب سے زمینی حملے کی تیاری کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اسی طرح یہ بازگشت بھی ہے کہ نیتن یاہو وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کو برطرف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ایک امریکی ذمے دار کے مطابق اس وقت گیلنٹ جیسے تجربہ کار وزیر دفاع کو برطرف کرنا "پاگل پن" ہو گا۔

جنوبی لبنان سے (آرکائیوز - رائٹرز)
جنوبی لبنان سے (آرکائیوز - رائٹرز)

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ حکومت نے غزہ کی جنگ کے اعلان کردہ مقاصد کا از سر نو تعین کیا ہے تا کہ شمالی اسرائیل کی آبادی کی واپسی کو ان میں شامل کیا جا سکے۔ دفتر کے مطابق سیکورٹی کابینہ نے گذشتہ رات اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع نے امریکی نمائندے سے ملاقات کے بعد کہا کہ "حزب اللہ کی جانب سے خود کو حماس کے ساتھ وابستہ کرنے اور تنازع ختم کرنے سے انکار جاری رہنے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات دھندلا رہے ہیں۔ لہذا شمالی اسرائیل کی آبادی کی واپسی یقینی بنانے کے لیے باقی رہ جانے والا واحد راستہ فوجی آپریشن ہو گا"۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب تل ابیب حکومت واشنگٹن کی مخالفت کر رہی ہے۔ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ چھڑنے کے دن سے ہی بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان مختلف معاملات کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر میں تضاد نظر آ رہا ہے۔ ان میں تباہ حال غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے علاوہ قیدیوں کا معاملہ، غزہ کے انتظامی امور اور مصر کے ساتھ سرحد پر رفح کی گزر گاہ کی فلسطینی جانب پر اسرائیلی کنٹرول وغیرہ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر سے لبنانی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں سرحدی علاقوں سے دونوں جانب کے تقریبا 1.5 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی طرح اس لڑائی میں اب تک لبنان میں کم از کم 623 اور اسرائیل میں کم از کم 50 افراد مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں