جو بائیڈن کا بطورِ امریکی صدر آخری مرتبہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

خطاب کا مرکز یوکرین اور غزہ تنازعات اور ان کا حل اور بائیڈن کی کامیابیاں ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن منگل کو اقوامِ متحدہ کی ایک تقریر میں اپنی خارجہ پالیسی کی میراث پر خوشگوار امیدوں کے ساتھ بات کریں گے جسے بدستور چیلنجز درپیش ہیں مثلاً یوکرین کی طرف سے روسی حملہ آوروں کو پسپا کرنے کی کوششیں اور شرقِ اوسط جنگ۔

دفتر میں بائیڈن کے چار ماہ باقی رہ گئے ہیں تو وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کے لیے سبز ماربل سے بنے شہ نشین کی طرف ایسے حالات میں قدم بڑھائیں گے کہ دونوں خطوں میں جنگوں سے پیداشدہ مسائل ان کی صدارت کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

غزہ میں جنگ بندی نافذ کرنے کی کوششوں میں ناکامی اور اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے مابن سرحد پار جنگ چھڑ جانے کے بعد پینٹاگون نے پیر کو کہا کہ وہ بہت زیادہ احتیاط کرتے ہوئے شرقِ اوسط میں اضافی فوجیوں کی ایک مختصر تعداد بھیجے گا۔

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے لے کر جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملے اور اسرائیلیوں کو یرغمال بنانے اور غزہ پر اسرائیلی حملے تک --بائیڈن کی دورِ صدارت میں خارجہ پالیسی کے بڑے چیلنجز کا غلبہ رہا ہے۔

مدِ مقابل چین اور ایران جو حماس اور حزب اللہ دونوں کی پشت پناہی کرتے ہیں، پر صدر کے وقت کا بڑا حصہ صرف ہوا ہے۔

انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، بائیڈن کی مقامی وقت صبح 10 بجے کی تقریر سے انہیں اس بارے میں بات کرنے کا موقع ملے گا جسے وہ اپنے دفتر میں اپنے وقت کی اہم کامیابیاں سمجھتے ہیں اور وہ یہ کہہ سکیں گے کہ عالمی برادری یوکرین کی حمایت کرے اور شرقِ اوسط میں سفارتی حل کی ضرورت ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرن جین-پیئر نے نیویارک جانے والی ایئر فورس ون کی پرواز پر صحافیوں کو بتایا، بائیڈن اپنے اس نظرئیےکا خاکہ پیش کریں گے کہ دنیا کو ان بڑے مسائل کو حل کرنے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر جیسے بنیادی اصولوں کا دفاع کرنے کے لیے کس طرح یکجا ہونا چاہیے۔

بائیڈن جمعرات کو واشنگٹن میں ملاقات کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے نئے یوکرینی امن منصوبے کے بارے میں بات کرنے والے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ یہ منصوبہ شاید گذشتہ منصوبوں کی طرح ہے جس میں یوکرین کی لڑائی کے لیے مزید ہتھیاروں اور مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جین-پیئر نے کہا، "ہم اس جنگ کے لیے یوکرین کے منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول کی حمایت کرتے ہیں۔ اور یوکرینی فوج کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے درکار ساز و سامان فراہم کرنے کے حوالے سے صدر پرعزم ہیں۔"

بائیڈن کی اقوامِ متحدہ کی تقریر نیویارک کے دو روزہ دورے کا مرکزی واقعہ ہو گی جس میں منگل کے روز شام کو موسمیات کے موضوع پر تقریر اور بدھ کو ویتنام کے صدر ٹو لام سے ملاقات شامل ہے۔

روس اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے تزویری اہمیت کے حامل جنوب مشرقی ایشیائی ملک اور مینوفیکچرنگ مرکز کے ساتھ تعلقات گہرا کرنے کی بائیڈن کو خواہش رہی ہے جس کے ساتھ ویتنام بھی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یوکرین اور روس، غزہ، ایران اور چین سبھی اگلے صدر کے لیے چیلنجز کے طور پر موجود ہیں خواہ وہ بائیڈن کی جانشین ان کی نائب صدر ڈیموکریٹ کملا ہیرس ہوں یا ریپبلکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔

خارجہ پالیسی کے بارے میں ہیرس کا طرزِ عمل بائیڈن کی طرح ہے حالانکہ انہوں نے دسیوں ہزار فلسطینی ہلاکتوں اور اسرائیلی حملے سے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں تقریباً ایک سال سے جاری انسانی بحران پر سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔

دوسری جانب زیادہ تنہائی پسندانہ رجحانات کا دعویٰ کرنے والے ٹرمپ روسی حملہ آوروں کو نکال باہر کرنے کے لیے یوکرین کی لڑائی کی حمایت کے معاملے میں بہت کم خواہش رکھتے ہیں۔ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے مضبوط حمایتی ہیں جن کے بائیڈن کے ساتھ تعلقات خراب رہے ہیں۔

بائیڈن نے غزہ سے حماس کے خاتمے کی مہم میں اسرائیل کی مستقل حمایت کا اظہار کیا ہے لیکن اب تک وہ یرغمالیوں کے لیے جنگ بندی معاہدے طے کرنے میں ناکام رہے ہیں اور کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔

بائیڈن کی قیادت میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے لاکھوں ڈالر کے امریکی ہتھیار یوکرین کو بھیجے ہیں اور کئیف سے نیٹو کی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن یہ تنازعہ زیادہ تر تعطل کا شکار ہے کیونکہ روس کا مشرقی یوکرین کے بعض حصوں پر قبضہ برقرار ہے جو اس نے جنگ کے شروع میں حاصل کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں