مشرق وسطیٰ

اسرائیل لبنان جنگ بندی کے لیے امریکی-یورپی-عرب ممالک کی مشترکہ اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ، یورپی یونین ، متعدد مغربی اور عرب ممالک نے بدھ کو لبنان میں "عارضی جنگ بندی" کے قیام کے لیے مشترکہ اپیل جاری کی۔ تمام ممالک نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع خطے کو بڑے پیمانے پر جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ "ہم نے حالیہ دنوں میں ایک عارضی جنگ بندی کے لیے مشترکہ کام کیا ہے تاکہ سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع ملے اور سرحد پار مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔"

انہوں نے کہا کہ "امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے ان کی تائید کی ہے۔"

یہ بیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی بات چیت اور امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ جو بائیڈن نے نیو یارک میں میکرون سے ملاقات کی اور "اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنے اور وسیع جنگ کو روکنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔"

اس سے قبل جو بائیڈن نے متنبہ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک "آل آؤٹ جنگ" کا آغاز "ممکن ہے"، جب کہ میکرون نے "اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکے اور حزب اللہ جنگ بندی کرے۔"

فرانسیسی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کہا، "ہم اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ وہ لبنان میں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکے۔ ہم حزب اللہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر میزائل داغنا بند کرے۔"

ہم ہر اس شخص پر زور دیتے ہیں جو (حزب اللہ) کو ایسا کرنے کے لیے ضروری ذرائع فراہم کرتا ہے،کہ اسے روکے۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملہ کرنے کے لیے، لبنان پر ممکنہ زمینی حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کی اسرائیلی سرزمین پر بمباری کی رفتار روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

بدھ کے روز، اسرائیلی فضائی دفاع نے حزب اللہ کی طرف سے تل ابیب کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روکا۔ جب سے تقریباً ایک سال قبل دونوں فریقوں کے درمیان تنازع شروع ہوا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ، کیونکہ حزب اللہ نے اس سے پہلے کبھی اسرائیل پر بیلسٹک بمباری نہیں کی تھی۔ میزائل، اور یہ بھی پہلی بار تھا کہ اس نے تل ابیب پر فائر کیا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ "اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان موجودہ کشیدگی روکنے اور عارضی جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔"

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے آغاز سے قبل خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ "ایک جامع تباہی کے دہانے پر ہے"، اور اس بات پر زور دیا کہ عراق"ہر طرح سے" لبنان کی حمایت کرے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ اپنی شمالی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر سفارت کار حزب اللہ کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہے تو وہ "تمام دستیاب ذرائع" استعمال کرے گا۔

سفارت کار ایک ایسے معاہدے کی تلاش میں مصروف ہیں جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک ایسے وقت میں امن قائم کرے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے قیام کا امکان بہت دور کی بات ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ انتھک کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہر طرح کی جنگ سے بچ سکیں اور ایک سفارتی عمل کی طرف بڑھیں جس سے اسرائیلی اور لبنانی اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔ "

سفارت کار نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بات چیت بہت مشکل ہے، اور ان کے نتائج بہت غیر یقینی ہیں۔

یہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے شدید فضائی حملوں کے تیسرے دن لبنان، خاص طور پر اس ملک کے جنوب اور مشرق میں، حزب اللہ کے مضبوط گڑھوں پر اپنی "وسیع" بمباری جاری رکھی جس کے نتیجے میں 90,000 سے زیادہ لبنانی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ تین دنوں میں لبنان میں حزب اللہ کے دو ہزار سے زائد اہداف پر بمباری کی، جن میں بدھ کے روز سینکڑوں اہداف بھی شامل ہیں۔

لبنانی حکام کے مطابق پیر کو لبنان میں پہلے اسرائیلی حملوں میں 558 افراد ہلاک اور 1,800 سے زائد زخمی ہوئے، جو خانہ جنگی (1975-1990) کے بعد ایک دن میں ہلاک کی جانے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اس وقت تک "مکمل طاقت" استعمال کریں گے جب تک کہ شمال کے باشندوں کی ان کے گھروں تک واپسی کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں