قادر اور فادی میزائلوں کے بعد حزب اللہ کے پاس کون سے ہتھیار ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

حزب اللہ کو گذشتہ ہفتے سے تکلیف دہ اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے۔ گذشتہ منگل اور بدھ کو حزب اللہ کے ارکان کے چہروں کے قریب اور ہاتھوں میں موجود ہزاروں ریڈیو ڈیوائسز کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے اس کے چند اہم رہنماؤں کے قتل کردیا گیا۔ بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے کیے گئے۔ اس دوران حزب اللہ نے اپنے جوابی حملوں میں اسرائیل کی جانب نئے میزائل داغے ہیں۔

اس سے حزب اللہ کی فوجی صلاحیتوں اور اس کے میزائلوں کے ذخیرے کے بارے میں ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے۔ بدھ کو ایک قادر ون میزائل تل ابیب کے مضافات میں اسرائیلی انٹیلی جنس "موساد" کے ہیڈ کوارٹر کی طرف داغا گیا۔

گزشتہ اتوار کو جی پی ایس سسٹم سے لیس فادی ون اور فادی ٹو میزائل پہلی بار حیفا کی طرف داغے گئے۔ پہلے میزائل کی رینج 80 کلومیٹر ہے اور "فادی 2" کی رینج 105 کلومیٹر تک ہے۔ اس میزائل کا نام فادی حسن طویل کے نام پر رکھا گیا ہے۔ فادی حسن مئی 1987 میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ وہ رضوان فورس کے رہنما وسام طویل کے بھائی تھے۔ وسام کو جنوری 2024 میں اسرائیل نے قتل کر دیا تھا۔

مزید کونسے میزائل موجود؟

امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق مذکورہ بالا میزائلوں کے علاوہ ایرانی حمایت یافتہ جماعت کے پاس ایک لاکھ 50 ہزار تک راکٹ اور میزائل موجود ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے میزائل غیر گائیڈڈ ہیں۔ ان میں ڈرونز، ٹینک شکن میزائل، طیارہ شکن میزائل، جہاز شکن میزائل اور درست نشانے والے میزائل بھی ہیں۔ علاوہ ازیں پارٹی کے پاس تقریباً 45,000 جنگجو ہیں جن میں 20,000 کل وقتی جنگجو ہیں۔ "ورلڈ فیکٹ بک" کے مطابق حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ ان کے پاس 100,000 جنگجو ہیں۔

حزب اللہ کے ڈرون

زمین پر حملہ کرنے والے میزائل

جہاں تک میزائلوں کا تعلق ہے 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں اس کے میزائل ہتھیاروں کا بڑا حصہ غیر گائیڈڈ میزائلوں پر مشتمل تھا۔ اس نے اسرائیل پر تقریباً چار ہزار میزائل فائر کیے تھے جن میں سے زیادہ تر کاتیوشا تھے جن کی رینج 30 کلومیٹر تک تھی۔ لیکن حسن نصراللہ نے 2006 سے پارٹی کے ہتھیاروں میں اس کی درست رہنمائی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی بات کی ہے۔

مزید برآں حزب اللہ کے پاس ایرانی قسم کے میزائل بھی ہیں ۔ ان میں رعد، فجر اور زلزال شامل ہیں۔ گزشتہ اکتوبر سے غزہ جنگ کے دوران حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے راکٹوں میں کاتیوشا اور برکان راکٹ شامل تھے جو 300 سے 500 کلو گرام تک وزن لے جا سکتے ہیں۔ ایرانی ساختہ فلق 2 میزائل بھی گزشتہ جون میں پہلی بار استعمال کیے گئے تھے جو ماضی میں استعمال ہونے والے فلق 1 میزائل سے بھی زیادہ وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں۔

ٹینک شکن میزائل

حزب اللہ کے پاس اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل بھی ہیں جو اس نے 2006 کی جنگ اور موجودہ تنازع میں بڑے پیمانے پر استعمال کیے ہیں ۔ ساتھ ہی روسی ساختہ کورنیٹ میزائل بھی ہیں۔

طیارہ شکن میزائل

حزب اللہ کے پاس طیارہ شکن میزائل بھی ہیں، کیونکہ اس نے اس تنازعے کے دوران کئی بار زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا۔ ان میں ہرمیس 450 اور ہرمیس 900 ڈرون شامل ہیں۔ اگرچہ حزب اللہ کے پاس طویل عرصے سے طیارہ شکن میزائلوں کے بارے میں خیال کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع تھا جب اس نے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

ڈرونز

اس جماعت کے پاس دھماکہ خیز ڈرون بھی ہیں اور اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے خلاف ان محاذ آرائیوں کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے انہیں شمالی اسرائیل میں بم گرانے کے لیے استعمال کیا اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی فضائی دفاع کو مصروف رکھا اور اس دوران دوسرے ڈرون اپنے اہداف کی طرف اڑ رہے تھے۔ یہ ڈرون ایوب اور مرصاد ماڈل کے ہیں جن کی متعدد تجزیہ کار تصدیق کرتے ہیں کہ یہ سستے ہیں اور بڑی مقدار میں تیار کیے جاسکتے ہیں۔

جہاز شکن میزائل

جہاں تک جہاز شکن میزائلوں کا تعلق ہے حزب اللہ نے سب سے پہلے یہ ظاہر کیا کہ اس کے پاس 2006 میں جہاز شکن میزائل تھے جب اس نے ساحل سے 16 کلومیٹر دور ایک اسرائیلی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے سے چار اسرائیلی ہلاک ہوگئے اور جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔

دریں اثنا حزب اللہ کے ہتھیاروں سے واقف ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 2006 کی جنگ کے بعد سے حزب اللہ نے روسی ساختہ یاخونٹ اینٹی شپ میزائل حاصل کر لیا ہے جس کی رینج 300 کلومیٹر تک ہے۔ تاہم حزب اللہ نے کبھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کے پاس یہ ہتھیار موجود ہے۔

یاد رہے 8 اکتوبر کو تصادم شروع ہونے کے بعد سے لبنان میں اب تک تقریباً 2500 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے تقریباً نصف گذشتہ چند دنوں کے دوران مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں