ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ بیروت میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر عباس نیلفروشان کے قتل کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے پریس آفس کے مطابق عراقچی نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی کے نام تعزیتی خط میں لکھا کہ "بریگیڈیئر جنرل نیلفروشان کا قتل ایک سنگین جرم ہے جس کا بدلہ لیا جائے گا‘‘۔
عراقچی نے مزید کہا کہ وزارت خارجہ مجرموں اور ان کے حامیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام سیاسی، سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی مواقع سے فائدہ اٹھائے گی۔
خیال رہے کہ حزب اللہ نے ہفتے کے روز اپنے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کا اعتراف کیا تھا۔
پاسداران انقلاب میں سیکنڈ ان کمانڈ
لبنان میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ جنرل نیلفروشان کو ایرانی حکومت کے سیکورٹی ڈھانچے کی اہم شخصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے وہ خطے میں ایرانی تحریکوں کا ایک اہم کھلاڑی تھا کیونکہ وہ حزب اللہ کا عسکری اور سفارتی امور میں مشیر رہا ہے۔
نیلفروشان 2022ء سے امریکی پابندیوں کی فہرستوں میں اور 2023 میں بالترتیب یورپی، کینیڈین اور آسٹریلیا کی پابندیوں کی فہرستوں میں شامل تھا۔
اسے ایرانی پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور امریکی وزارت خزانہ نے اسے "براہ راست ذمہ داروں میں سے ایک قرار دیا تھا‘‘۔ اخلاقی پولیس کی حراست میں نوجوان لڑکی مہسا امینی کی موت کے بعد ملک گیر مظاہروں کو دبانے میں بھی اس کا کردار بتایا جاتا ہے۔
تئیس جنوری 2023ء کو یورپی یونین نے نیلفروشان کو ایران کے بعض افراد، اداروں سمیت بلیک لسٹ کیا تھا۔
یورپی یونین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیلفروشان "ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے ذمہ دار تھا"۔
حماس کی طرف سے سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حملے سے تقریباً ایک ماہ قبل نیلفوروشان نے "مزاحمتی محاذ پر ایک مربوط کمانڈ اور کنٹرول نیٹ ورک" کے وجود کا اعتراف کیا، جس پر اس نے ایران کے اتحادیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔
اسرائیلی حملے کے وقت وہ لبنان میں کیوں تھا؟
ایرانی پاسداران انقلاب میں اپنی ذمہ داری کے علاوہ جنرل نیلفروشان نے لبنان میں "قدس فورس" کی کمان سنبھال رکھی تھی اور وہ حزب اللہ کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے کے وقت نصراللہ کے ساتھ اسی جگہ پر موجودتھا جہاں جمعہ اسرائیل نے بمباری کی۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ حسن نصر اللہ اور دیگر رہ نما بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں میں مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج نے "نصر اللہ، حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کرکی اور دیگر کئی رہنماؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوجی ترجمان نے ایرانی جنرل کی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا تھا
فرانسیسی اخبار Le Parisien نے سنیچر کے روز لبنانی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیل نے ایک ایرانی ایجنٹ کے ذریعے حساس معلومات حاصل کی تھیں، جن میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں گذشتہ جمعہ کو قتل سے قبل موجودگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ان معلومات کے مطابق اسرائیل نے اس علاقے پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں نصر اللہ مارا گیا۔
-
حسن نصراللہ کے ٹھکانے کا پتا ایک ایرانی جاسوس نے بتایا تھا: فرانسیسی اخبار
فرانسیسی اخبار Le Parisien نے لبنانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ...
بين الاقوامى -
امریکہ نصراللہ کے قتل میں شامل ہے اور ہم ایک وسیع جنگ کی تیاری کر رہے ہیں:ایران
اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر لبنانی حزب اللہ کے رہ نما حسن ...
مشرق وسطی -
پزشکیان سمجھتے ایران کو وسیع جنگ کی طرف نہیں کھینچنا چاہیے: نیو یارک ٹائمز
حسن نصراللہ کے قتل کے بعد خامنہ ای کے بلائے ہنگامی اجلاس میں رد عمل دینے سے متعلق ...
مشرق وسطی