السنوار کی پراسرار تصویر نے غزہ پر حملے کے بعد "روپوشی" پر سوالیہ نشان لگا دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے اتوار کی شب اپنے چیف آف اسٹاف ہرتزے ہیلفی کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ اپنے دفتر میں میز کے پیچھے بیٹھے ہیں اور ان کے عقب میں لگی اسکرین میں یحیی السنوار کی تصویر پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ اس تصویر نے اسرائیل میں ان چہ مگوئیوں میں اضافہ کر دیا ہے کہ آیا حماس کے سربراہ ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ صورت حال ان رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ یحیی السنوار کے ساتھ رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

ادھر اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کی انگریزی ویب سائٹ Ynet نے آج پیر کے روز بتایا کہ اسرائیلی دفاعی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ السنوار کی جگہ کی تصدیق کرنے والی معلومات موجود نہیں، اسی طرح ایسے کسی مقام پر حملے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا جہاں السنوار کے پائے جانے کا امکان ہو۔

اس سے قبل "العربیہ" نے ہفتے کے روز اپنی ایک رپورت میں بتایا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد یحیی السنوار نے غزہ میں میں اپنا ٹھکانا تبدیل کر لیا۔ مزید یہ کہ حماس تنظیم نے حالیہ دنوں میں السنوار اور دیگر قائدین کے سیکورٹی پروٹوکول میں ترمیم کی ہے۔ ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حماس کی قیادت مستقبل میں فائر بندی کے کسی بھی معاہدے میں اپنی سلامتی کی ضمانت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حماس تنظیم نے لبنان میں اپنے تنظیمی ملاقاتوں کو روک دیا ہے اور داخلی رابطوں کو تحریری مراسلوں تک محدود کر دیا ہے تا کہ اسرائیل تنظیم کے سینئر ذمے داروں کے ٹھکانوں کا پتا نہ چلا سکے۔ مزید یہ کہ یحیی السنوار نے قتل کے اندیشے سے ایک عرصے سے موبائل فون اور وائرلیس آلات کے ذریعے رابطوں کا سلسلہ روک دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں