جنوبی افریقہ کی پولیس نے 18 رشتہ داروں کےقتل عام کےالزام میں تین افراد کوگرفتارکر لیا

خاندان ایک روایتی تقریب کے لئے جمع تھا، قتل کا محرک معلوم نہ ہو سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

پولیس کے وزیر نے اتوار کو بتایا کہ جنوبی افریقی پولیس نے 18 رشتہ داروں جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، کے قتل کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ انہیں ایک ہفتہ قبل ایک دیہی مکان میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

پولیس کے وزیر سینزو مچونو نے قتل کی جگہ کے قریب ایک یادگاری تقریب کے موقع پر اعلان کیا کہ مشرقی کیپ صوبے میں 28 ستمبر کو صبح سویرے قتلِ عام کی واردات میں ملوث چوتھے مشتبہ شخص کی تلاش جاری تھی۔

ساحلی شہر ڈربن سے تقریباً 200 کلومیٹر (125 میل) جنوب مغرب میں لوسیکیسیکی میں مسلح افراد نے دو گھروں کے اندر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہو گئے۔ ایک 18 ویں شخص نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

جنوبی افریقی میڈیا کے مطابق ہلاک شدگان کی عمریں 14 سے 64 سال کے درمیان تھیں۔ پندرہ خواتین تھیں اور کئی کو سروں میں گولیاں ماری گئیں۔ اس حملے کا محرک معلوم نہیں ہو سکا۔ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب خاندان ایک روایتی تقریب کے لئے جمع ہوا تھا۔

اس قتلِ عام نے جنوبی افریقہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ملک میں جرائم کے خلاف پولیس سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جہاں دنیا میں فی کس قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں