اسرائیل کے غزہ جنگ کے لیے بھی اب تک سب سے بڑے اور اہم ثابت ہو نے والے اتحادی اور سرپرست ملک امریکہ نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی اور وسطی غزہ مین انسانیت کے لیے تباہی میں کچھ کمی لائے۔ تاکہ شہریوں کی اجیرن ہو چکی زندگی میں بہتری کا امکان پیدا ہو۔
یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے غزہ کی اسرائیلی بمباری اور مسلسل محاصرے سے تباہی و حالات کی سنگینی سے متعلق رپورٹس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔
امریکہ کی طرف سے یہ اسرائیل کو بدھ کے روز ایسے موقع پر کہا گیا جب اسرائیلی کی غزہ جنگ کا دوسرا سال شروع ہو چکا ہے۔ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی 42 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور بدھ ہی کے روز آمریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیر نیتن یاہو سے ایران پر اسرائیلی حملے کی جزئیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ اسرائیل اس سے قبل اپنی جنگ کو غزہ سے آگے لبنان تک پھیلا چکا ہے۔
امریکی سفیر نے کہا غزہ میں غیر معمولی انسانی تباہی کے حالات ہیں۔ اس زیر محاصرہ علاقے کو میں اشیائے خوردو نوش کی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
جنوبی اور وسطی غزہ میں سنگین تر ہو چجی حالات کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا ' ان تباہ کن حالات کی کئی ماہ پہلے پیش گوئی کر دی گئی تھی، مگر ابھی تک بہتری لانے کے لیے توجہ نہیں دی گئی۔ اسے فوری بدلنے کی ضروروت ہے۔ '
انہوں جنگی تباہی اور ناکہ بندی کے بد ترین اثرات کم کرنے کے حوالے سے کہا ' اسرائیل سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ 15 رکنی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس غزہ میں جنگ ایک سال مکمل ہونے کے بعد پیدا شدہ انسانی بحران کے معاملے پر کیا گیا۔
اسرائیل نے چھلے ایک سال میں غزہ کی پٹی کو کو برباد کر دیا ہے ۔ غزہ کی تقریبآ پوری آبادی اس ایک سال میں کئی بار بے گھر اور بے در ہو کر بار بار نقل مکانی کر چکے ہے۔
تھامس گرین فیلڈ نے غزہ کے شمال میں شہریوں کے دوبارہ انخلا کے لیے حالیہ اسرائیلی حکم نامے کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا غزہ کی تعمیر نو کے لیے شہریوں اور کمیونٹیز کے لیے حالات ساز گار ہونے چآہییں۔ تھامس گرین فیلڈ نے یہ بھی کہا غزہ کی پٹی پر آبادی کی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ نہ ہی غزہ کی جغرافیائی تقسیم و تبدل کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔
اس اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی بحالی کے ادارے ' انروا ' کے سربراہ فلپ لازارینی نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ لاکھوں فلسطہنی شہریوں کو ایک بار پھر جنوب کی طرف انخلا کے لیے دھکیلا جا رہا ہے، جہاں پہلے حالات ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے کہا مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کے لوگ قحط جیسے حالات میں بھوک اور پیاس سے مر رہے ہءں۔ رہے ہیں۔"
یاد رہے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز ' نے پچھلے ہفتے ہی رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں غزہ کے لیے خوراک کی ترسیل میں بہت تیزی سے کمی ہوئی ہے کیونکہ اسرائیلی حکام نے امدادی سامان پر کسٹم کے نئے قانون بنا لیے ہیں۔ مقصد امداد کی ترسیل روکنا ہے۔