ایک اسرائیلی چینل کی جانب سے عراق میں شیعہ کونسل کےرہ نما علی السیستانی کی تصویر شائع کیے جانے کے بعد جواسرائیل کے قتل عام کے منصوبوں میں سے شامل ہیں پر امریکہ نے اپنا رد عمل دیا ہے۔
بغداد میں امریکی سفیر الینا رومنوسکی نے السیستانی کو کسی بھی طرح کا نشانہ بنانے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایک "ممتاز مذہبی شخصیت" ہیں جنہیں بین الاقوامی برادری میں بہت عزت حاصل ہے۔ وہ خطےمیں امن کے تحفظ کی ایک فیصلہ کن اور بااثر آواز ہیں۔
انہوں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے میڈیا آفس کے’ایکس‘ پلیٹ فارم کے ذریعے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ "ہم ان بزرگ شیعہ رہ نما کو نشانہ بنانے کو مسترد کرتے ہیں اور امریکہ خطے میں امن کو فروغ دینے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا"۔
ٹارگٹ کلنگ کی فہرست
اسرائیلی چینل 14 نے عراق میں شیعہ اتھارٹی کے سربراہ علی السیستانی کی تصویر شائع کی ہے جو اسرائیلی قتل کے منصوبوں کے ہدف میں سے ایک ہے۔
السیستانی کی تصویر حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی، لبنانی حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم، حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ یحییٰ السنوار، قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاانی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر شامل ہیں۔
اسرائیلی چینل نے السیستانی کو قاتلوں کی فہرست میں شامل کرنے کی وجوہات کی وضاحت کیے بغیر تصاویر کو منگل کے روز نشر کیا۔
یہ تصاویر اس وقت سامنے آئیں جب چینل کا ایک نامہ نگار گذشتہ منگل کو اسرائیل پر ایران کی جانب سے میزائل حملے کے ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بارے میں بات کر رہا تھا۔
نامہ نگار نے اپنی رپورٹ کے دوران کہا کہ اسرائیل نے "ایران کے خلاف حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن ابھی تک ان اہداف کا تعین نہیں کیا گیا ہے جن پر حملہ کیا جائے گا"۔ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ ردعمل کی تاریخ کا تعین بھی نہیں کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے چینل 14 کی طرف سے شائع کی گئی فہرست پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ستمبر میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی اور حالیہ عرصے کے دوران اس جماعت کے کئی عہدیداروں اور رہ نماؤں کو بھی قتل کردیا گیا ہے۔ جولائی میں اسرائیل نے ایران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا۔
تل ابیب نے گذشتہ ایک سال کے دوران بارہا یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو "ختم کرنے" سے پہلے غزہ میں اپنی "فوجی مہم" بند نہیں کرے گا۔