چند دنوں کے اندر اس نوعیت کے ایک نئے واقعے میں اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے ذریعے بھرتی کیے گئے ایک "ایجنٹ" کو گرفتار کر لیا ہے۔
بدھ کے روز داخلی سلامتی کے ادارے شین بیت اور اسرائیلی پولیس نے بتاح تکفا سے 35 سالہ ولادیمیر ورھووسکی کی گرفتاری کا اعلان کیا جس سے اس شبہ میں پوچھ گچھ کی گئی کہ آیا اس نے ایران کے لیے جاسوسی کی خدمات حاصل کی ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ ایران نے اسےایک لاکھ ڈالر کے بدلے ایک اسرائیلی سائنسدان کو قتل کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا۔
جنگ میں شدت
شین بیت نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ڈرامائی طور پر بڑھ رہی ہے۔ اس انکشاف کیا کہ گرفتار شخص جو 8 سال قبل یوکرین سے اسرائیل میں داخل ہوا تھا ایرانی انٹیلی جنس سروسز کے لیے کئی کام کرتا تھا۔ یہ ایک عمارت میں نائٹ گارڈ کے طور پر کام کررہا تھا۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق ایرانی احکامات کے تحت اس نے جو کام انجام دیئے، ان میں دیواروں پر چاکنگ پینٹ کا چھڑکاؤ، بینرز لٹکانا، اسرائیلی ریاست کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا اور دیگر بھرتی کیے گیے عناصر کو اضافی کام انجام دینے کے ذرائع فراہم کرنا شامل ہیں۔
شین بیت نے خبردار کیا کہ "اسرائیل کے اندر ایران کے لیے کام کرنے والے ہر شخص کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی"۔
شین بیت نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سمیت اسرائیلی اہلکاروں کو قتل کرنے کی ایرانی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تل ابیب کے شمال میں واقع رامات گان سے دو اسرائیلیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر تہران کے لیے جاسوسی کا شبہ ہے
پچھلے مہینے اس نے ستمبر 2023ء میں سابق وزیر دفاع اور چیف آف سٹاف موشے یالون کو قتل کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا بھی انکشاف کیا۔
برسوں سے تل ابیب اور تہران کے درمیان ایک ’شیڈو وار‘جاری ہے۔ گذشتہ عرصے کے دوران ایران کی سرزمین پر اس کے جوہری سائنس دانوں یا فوجی اہلکاروں کے قتل کے قعات کے بعد تہران نے ان حملوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔