امریکی محکمۂ نقل و حمل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ امریکن ایئر لائنز کو معذور مسافروں سے ناروا سلوک کرنے پر 50 ملین ڈالر کا ریکارڈ جرمانہ کر رہا ہے جس میں بعض لوگوں کو مناسب مدد فراہم کرنے میں ناکامی اور وہیل چیئرز کو غلط طریقے سے سنبھالنا بھی شامل ہے۔
محکمہ نے کہا، یہ جرمانہ معذور افراد کے تحفظ کی خلاف ورزیوں کے لیے ایئر لائن کے سابقہ سب سے زیادہ جرمانے سے 25 گنا بڑا ہے جو مستقبل میں ان ان کے نفاذ کے لیے ایک "نئی مثال" قائم کرتا ہے۔
ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری پیٹ بٹیگیگ نے کہا، "ایئر لائن کی طرف سے معذور مسافروں کے ساتھ ناروا سلوک برداشت کرنے کا دور ختم ہو گیا ہے۔ ایئرلائنز پر بڑے جرمانے عائد کر کے ہم سفری صنعت کا رویہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔"
تصفیہ کی شرائط کے تحت امریکی ایئر لائن تین سالوں کے دوران 25 ملین ڈالر ادا کرے گی اور مسائل حل کرنے اور متأثرہ مسافروں کو خیر سگالی معاوضے کے لیے 25 ملین ڈالر کا کریڈٹ دیا گیا۔
امریکن ایئر لائنز کی سینئر نائب صدر جولی راتھ نے کہا، "آج کا معاہدہ اپنے تمام صارفین کا خیال رکھنے کے لیے امریکن کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔"
محکمے نے کہا کہ امریکن نے ہزاروں وہیل چیئرز کو نقصان پہنچا کر یا ان کی واپسی میں تاخیر کر کے ان کا بھی غلط طریقے سے استعمال کیا جس سے یہ امریکی مسافر برداروں میں اس معاملے میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں شامل ہو گئی۔
محکمہ کے پاس دیگر امریکی ایئرلائنز میں بھی اسی طرح کی خلاف ورزیوں کی فعال تحقیقات ہیں لیکن اس نے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
امریکن نے کہا ہے کہ اس سال وہ "سفر کے دوران نقل و حرکت کے آلات استعمال کرنے والے مسافروں کی مدد کے لیے خدمات، بنیادی ڈھانچے، تربیت اور نئی ٹیکنالوجی پر 175 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہا ہے۔"
ایئر لائن نے مزید کہا کہ اس نے 2022 سے اپنی وہیل چیئر اور سکوٹر ہینڈلنگ کی شرح میں 20 فیصد سے زیادہ بہتری پیدا کی ہے اور نوٹ کیا کہ اسے گذشتہ سال وہیل چیئر کی مدد کے لیے 7.9 ملین پیشگی درخواستیں موصول ہوئیں۔