شرقِ اوسط کشیدگی اور امریکی انتخابات کا اضطراب: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ ریکارڈ توڑ اضافے سے عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ نمایاں ہوا ہے اور اس کی وجہ شرقِ اوسط میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی انتخابات کا بڑھتا ہوا اضطراب ہے۔
شرقِ اوسط میں ابھرتے ہوئے تنازعات اور بالخصوص ایران کی شمولیت کے ممکنہ اضافے کے خدشات کے باعث سرمایہ کار ایسی محفوظ سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں جو مارکیٹ میں مندی کے دوران انہیں تحفظ دے۔ اسی بنا پر سونا گذشتہ ہفتے 2,700 ڈالر فی اونس کی تاریخی حد عبور کر گیا۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو ایک عشرے کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ دھات ایک قیمتی اثاثے کے طور پر اپنی کشش اور سبز ٹیکنالوجیز میں صنعتی طلب سے استفادہ کرتی ہے۔
سال کی چوتھی سہ ماہی میں چاندی کا انحطاط پذیر رجحان تبدیل ہوا جو اب سونے کی ریکارڈ توڑ رفتار کے برابر آ گیا ہے۔ 22 اکتوبر کو چاندی کی قیمت 34.87 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جو سال کے آغاز کی نسبت 43 فیصد زیادہ اور 12 سالوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔
سرمایہ کاری کے ایک محفوظ طریقے کے طور پر کشش کے باعث سونے کے ساتھ ساتھ چاندی نے توجہ بھی حاصل کر لی ہے حتیٰ کہ اس کی قیمت کا مخصوص اتار چڑھاؤ برقرار رہا ہے۔ دھات کی قیمت میں ممکنہ اضافے کے آثار دیکھ کر بہت سے سرمایہ کار پر امید ہیں۔
جمعہ کو سونے کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ سونے کی موجودہ قیمت 0.1 فیصد کم ہو کر 2,734.25 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ قیمتیں بدھ کے روز 2,758.37 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور مسلسل تیسرے ہفتہ وار اضافے کی راہ پر گامزن تھیں۔ امریکی سونے کے سودے 2,748.90 ڈالر پر مستحکم تھے۔ اس دوران چاندی کی موجودہ قیمت 33.78 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی۔
یہ اس وقت ہوا ہے جب تمام دنیا کے بڑے مرکزی بینکوں نے مالیاتی پالیسی میں نرمی اور شرح سود میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔ فیڈرل ریزرو اور دیگر مرکزی بینکوں کی نافذ کردہ یہ کٹوتیاں سونے اور چاندی جیسے غیر سود والے اثاثہ جات کو ہولڈ کرنے کے اخراجات کم کر رہی ہیں۔
معیشت کی بحالی کے اقدامات کے طور پر گذشتہ ماہ دیگر پالیسی شرحوں میں کمی کی گئی جس کے بعد پیپلز بینک آف چائنا نے سوموار کے روز بینچ مارک قرضے کی شرحوں میں کمی کی جس سے سونے اور چاندی سمیت اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی انتخابات کے حوالے سے خدشات
سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتِ حال کے خلاف حفاظت سمجھا جانے والا تیزی کا رجحان اس سال 32 فیصد بڑھ گیا ہے جس کے دوران متعدد ریکارڈ بنے ہیں۔ ایل ایس ای جی ورک سپیس کے اعداد و شمار کے مطابق اگر سونا اس سطح پر برقرار رہتا ہے تو یہ 1979 کے بعد سب سے بڑی سالانہ ترقی ہو گی۔
سنچری فنانشل کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر وجے والیچا نے العربیہ کو بتایا، "تجزیہ کاروں نے اصل اندازہ لگایا تھا کہ سال کے آخر تک سونا 2,700 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے لیکن پیشین گوئیوں سے بہت پہلے اکتوبر میں ہی زرد دھات اس سطح پر پہنچ چکی تھی۔"
انہوں نے مزید کہا، "تیز رفتار اضافہ جغرافیائی سیاسی بدامنی بالخصوص شرقِ اوسط میں اور طویل روس-یوکرین تنازعہ کی وجہ سے تھا۔ اس سے سرمایہ کاروں کے اضطراب میں شدت آئی ہے جس سے سونے چاندی جیسی دھاتوں میں محفوظ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ ہوا۔
واشنگٹن شرقِ اوسط تنازعے کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی صدارتی انتخابات میں صرف دو ہفتے باقی ہیں تو امریکی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں سے پہلے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے ثالثی کی یہ آخری کوشش ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں صدارتی امیدواروں کے لیے وائٹ ہاؤس کی دوڑ بہت قریبی ہے۔
آئندہ امریکی انتخابات نے پہلے سے ہی ایک غیر مستحکم کاروباری سال کو مزید تیز کر دیا ہے کیونکہ دونوں صدارتی امیدواروں نے بڑے پیمانے پر مختلف اقتصادی ایجنڈے پیش کیے ہیں۔ اس سے غیر یقینی کی پرتوں میں اضافہ ہوا ہے بالخصوص چونکہ مختلف نتائج مالیاتی پالیسیوں کو نئی شکل دے سکتے اور ڈالر کی قوت کو متأثر کر سکتے ہیں۔
والیچا نے کہا، "کملا ہیرس نے امیر کارپوریشنوں پر ٹیکس بڑھانے، درمیانی اور کم آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس میں کٹوتی کرنے اور صحت اور سماجی پروگراموں پر عوامی اخراجات کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا ہے اور یہ اقدامات بالآخر اقتصادی ترقی کو سست اور ڈالر کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکسوں میں کمی، بالخصوص چین سے درآمدات پر زیادہ ٹیرف کی تجویز پیش کی ہے اور توانائی کی ملکی پیداوار میں توسیع کی ہے جس سے ڈالر کو مدد مل سکتی ہے۔"
ان متضاد طریقوں نے سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا کیے ہیں۔ ایسے الجھن زدہ ماحول میں سرمایہ کار اکثر محفوظ سرمایہ کاری مثلاً سونے اور چاندی کے اثاثہ جات کا رخ کرتے ہیں۔
روایتی اثر و رسوخ سے علیحدگی
ایک کے بعد ایک ریکارڈ سطح قائم کرنے میں سونا شرح سود، افراطِ زر اور ڈالر سے الگ ہوتا نظر آتا ہے۔ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ آج کی طلب وسیع تر رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔
مارکیٹ کے تجزیہ کار اور ایکسِس گلوبل مارکیٹس کے شریک بانی ولید ابوسلیمان نے العربیہ کو بتایا، "مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں نرمی اور عنقریب ہونے والے امریکی انتخابات کے باعث سرمایہ کار محفوظ جگہ تلاش کر رہے ہیں اور سونا ان انتخاب بن گیا ہے۔"
مستقبل پر نظر
ماہرین کا خیال ہے کہ انتخابی نتائج اور ممکنہ پالیسی تبدیلیاں قیمتی دھاتوں کی طلب میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔ سونا کی قیمت پہلے ہی بلند ہے تو کشیدگی برقرار رہنے کی وجہ سے اس کی رفتار میں تیزی کا امکان ہے۔
ابوسلیمان نے کہا، "ہم 2024 کے آخر تک سونے کی قیمت 2,850 ڈالر تک جاتے دیکھ سکتے ہیں اور اگر مرکزی بینک متوقع شرح سود میں کمی پر عمل کرتے ہیں تو یہ ممکنہ طور پر 3,000 ۤتک جا سکتی ہے۔"
اسی طرح چاندی کو موجودہ حالات اور ٹیک اور قابلِ تجدید شعبوں میں استعمال سے فائدہ ہو گا۔
ویلیچا نے نوٹ کیا کہ "چاندی میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے کیونکہ اس نے حال ہی میں 31 ڈالر کی طویل مدتی حد عبور کر لی ہے اور یہ 50 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ سکتی ہے۔"
-
اپنا دفاع کرنا ہمارا حق اور فرض ہے: ایرانی وزارت خارجہ
امریکہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملے کا جواب نہ دے ۔ دوسری طرف ایرانی ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی حملوں سے خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا: ایرانی حکومت کا دعویٰ
ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ نصف شب کے بعد اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ...
بين الاقوامى -
ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت کے حالیہ اقدام پر تشویش ہے: شہبازشریف
پاکستان فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے تحمل سے کا م ...
پاكستان