ایران کی درخواست پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی حملہ زیر بحث آئے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عالمی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج پیر کے روز نیویارک میں منعقد ہو گا۔ اجلاس کا مطالبہ ایران نے اپنے ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کیا۔

سلامتی کونسل کی حالیہ صدارت انجام دینے والے ملک سوئٹرزرلینڈ کے مطابق ایران کی درخواست کو روس اور چین کے علاوہ سلامتی کونسل میں عرب نمائندے الجزائر کی حمایت حاصل رہی۔

اس سے قبل اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دھمکی دی تھی کہ اسرائیلی حملوں کا "مناسب جواب" دیا جائے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ تہران جنگ کی کوششیں نہیں کر رہا تاہم اس حملے کے جواب میں مناسب کارروائی ضرور کیا جائے گی۔

ایران نے اتوار کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی تھی کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہ کو خط لکھا۔ خط میں انھوں نے درخواست کی کہ اس جارحیت کی مذمت میں فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا ایک فوری اجلاس منعقد کیا جائے"۔ یہ اشارہ اسرائیلی حملے کی جانب تھا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل تیار کرنے کی قدرت پر "کاری ضرب" لگائی گئی۔ حملوں میں مطلوبہ مقاصد پوری طرح حاصل کر لیے گئے۔

ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ تہران ہفتے کے روز ہونے والے حملے پر جوابی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ خامنہ ای کے مطابق اسرائیل نے حساب کرنے میں "غلطی کر دی"، چار فوجیوں کی ہلاکت اور تھوڑے سے مادی نقصان کا باعث بننے والے اس حملے کو بڑھا چڑھا کر نہیں پیش کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں