فرانس اور جرمنی نےامریکی ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بار پھر صدر منتخب ہوجانے پر فوری طور پر باہم رابطہ کر کے بدھ کےروز مشاورت کی ہے۔ تاکہ ایک مضبوط ، متحد اور زیادہ خود مختار یورپ کے لیے مل کر کام کیا جاسکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ بطور صدارتی امیدوار کامیاب ہونے کے بعد یورپ سے یہ پہلا بڑا اور اہم رد عمل ہے۔ فرانس کے صدر میکروں نے ' ایکس ' پر لکھا ہے اس نئے منظر نامے میں برلن اور پیرس کو متحد ہو کر زیادہ مضبوطی اور خود مختاری کے ساتھ باہم ملک کر کام کرنا ہو گا۔
میکروں نے اس موقع پر امریکی صدر کو مبارک باد بھی دی ہے۔ نیز کہا ہے کہ فرانس اور امریکہ کو ماضی کے اختلافات کو کم کرنا چاہیے۔
واضح رہے فرانس اور جرمنی یورپی یونین کے دو اہم اور طاقتور ملک ہیں۔ سیاسی اعتبار سے ان کی پوزیشن آجکل کافی نازک ہے۔ فرانس کے صدر میکروں رواں سال اپنی سیاسی میدان میں اپنی پہلے والی پوزیشن بحال نہیں رکھ سکے ہیں۔ جبکہ جرمنی کے چانسلر شولز بھی اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملائے رکھنے کے لیے جہد کر رہے ہیں۔
امریکہ میں صدارتی انتخاب کے نتیجے نے انہیں عجلت میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری پر مجبور کر دیا۔ فرانس کی وزارت دفاع کے مطابق دونوں کے وزرائے دفاع نے باہم فرانس کےدارالحکومت پیرس میں ملاقات کی ہے۔
فرانس کے صدر نے ڈونلد ٹرمپ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے ' ہم ایک بار پھر مل کر کام کرنے کو تیار ہیں جیسا کہ پہلے بھی چار سال کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی اور میری کمٹمنٹ بہت کام آئے گی۔ تاکہ ہم عزت اور ارادوں کے ساتھ آگے بڑھیں اور زیادہ امن و خوشحالی ممکن بنا سکیں۔
فرانسیس صدر جن کے بطور صدر دو سال باقی ہیں ٹرمپ کے ساتھ ان کے پچھلے دور صدارت میں تعلقات کے اتار چڑھاو سے گزرے ہیں۔ شروع شروع میں میکروں صدر ٹرمپ کو ایک دوست کے طور پر یاد کرتے اور انہیں ایفل تٹور پر کھانے کی دعوت دینے کے ماحول میں رہے، مگر بعد ازاں، موسمیاتی تبدیلیوں، ٹیکسیشن، اورایران کے ساتھ معاملات نے ان قریبی تعلقات میں کھردرا پن آگیا جو بعد ازاں یورپی دوستوں میں وسعت پکڑ گئی۔
میکروں نے ایک بار کہا تھا کہ ان کی اور دیگر عالمی رہنماؤں کی ٹرمپ کے ساتھ فون پر ہونے والی بات چیت 'بالکل ساسیجز کی طرح تھی، بہتر ہے کہ اس کی وضاحت نہ کیجائے کہ اندر کیا ہے۔'
ایک یورپی سفارت کار نے بدھ کے روز بین الاقوامی خبر رساں ادارے' روئٹرز'سے بات کرتے ہوئے کہا 'یقیناً یورپ کو چلانے کے لیے آپ کو فرانس اور جرمنی کی ضرورت ہے، لیکن فرانس میکروں کے ساتھ اور جرمنی شولز کے ساتھ چلانا مشکل ہو گا۔'
-
امریکہ سنہری دور میں داخل ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی جیت کا اعلان کر دیا
امریکی انتخابی عمل میں وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں ڈیموکریٹ ہیرس اور ریپبلکن ٹرمپ کے ...
بين الاقوامى -
امریکہ میں 805 کلو میٹر فی منٹ کی رفتار سے اڑنے والے ہائپر سونک نیوکلیئر میزائل کا تجربہ
آج امریکی فوج اس میزائل کا تجربہ کر رہی ہے۔ اسے کیلیفورنیا کے ایک اڈے سے لانچ کیا ...
بين الاقوامى -
وہ سات ریاستیں جن کے نتائج امریکہ کے صدارتی انتخاب کا قول فیصل ہوتے ہیں
امریکہ کے صدارتی الیکشن میں کامیابی کے لیے 538 الیکٹورل ووٹوں میں سے 270 حاصل کرنا ...
بين الاقوامى