اسرائیلی شائقین پر تشدد کے بعد شدید کشیدگی: ایمسٹرڈیم میں ٹرام کو آگ لگا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پولیس نے بتایا کہ پیر کے روز لاٹھیوں اور آتش بازی سے مسلح درجنوں افراد نے ایمسٹرڈیم میں ایک ٹرام کو آگ لگا دی جبکہ گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی فٹ بال کلب کے شائقین کو نشانہ بنانے والے تشدد کے بعد شہر میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

پولیس نے بتایا کہ آگ جلد بجھا دی گئی اور فسادات سے نمٹنے والے اہلکاروں نے چوک خالی کر دیا۔ آن لائن تصاویر میں لوگوں کو املاک کو نقصان پہنچاتے اور پٹاخوں کو آگ لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پولیس نے کہا کہ یہ واضح نہیں تھا کہ بدامنی کس نے شروع کی اور آیا اس کا تعلق گذشتہ ہفتے کے واقعات سے تھا۔ لیکن میکابی تل ابیب-ایجیکس میچ کے بعد انہوں نے کشیدگی کا ماحول محسوس کیا جس کے بعد سے پانچ افراد ہسپتال میں زیرِ علاج تھے اور درجنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

ایمسٹرڈیم کے میئر کے مطابق نوجوان سکوٹر پر اور پیدل اسرائیلی شائقین کی تلاش میں نکلے، انہیں مکے اور لاتیں ماریں اور پھر پولیس سے بچنے کے لیے فرار ہو گئے۔

مقامی حکام نے فلسطینی حامی مظاہرین پر سٹیڈیم کے باہر جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ میچ سے قبل میکابی کے شائقین نے ایمسٹرڈیم میں ایک عمارت پر سے فلسطینی پرچم بھی پھاڑ دیا اور سٹیڈیم جاتے ہوئے عرب مخالف نعرے لگائے۔ میکابی کے شائقین کے لڑائی شروع کرنے کی بھی اطلاعات ملیں۔

ڈچ پولیس نے اس پہلے تشدد کی تحقیقات کے سلسلے میں پیر کو پانچ نئی گرفتاریوں کا اعلان کیا۔ مشتبہ افراد کی عمریں 18 سے 37 سال ہیں اور ان کا تعلق ایمسٹرڈیم یا اردگرد کے شہروں سے ہے۔ چار اب بھی زیرِ حراست ہیں۔ پانچویں کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن وہ مشتبہ ہے۔

قبل ازیں پولیس نے کہا تھا کہ گذشتہ ہفتے گرفتار ہونے والے چار دیگر افراد حراست میں رہیں گے جب تک تفتیش جاری ہے۔ ان میں سے دو نابالغ ہیں، ایک 16 سالہ اور ایک 17 سالہ جن کا تعلق ایمسٹرڈیم سے ہے۔ دیگر دو افراد کا تعلق ایمسٹرڈیم اور قریبی شہر سے ہے۔

پولیس نے کہا کہ انہوں نے 170 سے زائد گواہان کی شناخت کی اور درجنوں سے فرانزک شواہد لیے ہیں۔ وزیرِ اعظم ڈک شوف نے کہا، وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

میئر نے شہر میں تمام مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے اور ایمسٹرڈیم کے کئی حصوں کو خطرے والے علاقے قرار دیا ہے جہاں پولیس کسی کو بھی روک کر چیک کر سکتی ہے۔ اتوار کے روز وسطی ایمسٹرڈیم میں فلسطینیوں کے حامی مظاہرے میں حصہ لینے پر درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا جسے غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون سار جمعے کو نیدرلینڈ پہنچے اور پولیس تفتیش میں اسرائیل کی مدد کی پیشکش کی۔ انہوں نے ہفتے کے روز ڈچ وزیرِ اعظم سے ملاقات کی اور ایک بیان میں کہا کہ حملوں اور پاسپورٹ دکھانے کے مطالبات سے "تاریخ کے تاریک ادوار کی یاد تازہ ہو گئی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں