امیگریشن کےسخت مخالف اسٹیفن ملر وائٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف مقرر
ملر ٹرمپ کے پہلے دور میں ایک سینئر مشیر تھے اور ان کے بہت سے پالیسی فیصلوں میں مرکزی شخصیت تھے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دیرینہ مشیر اسٹیفن ملر کو جو امیگریشن کے معاملات پر سخت گیر موقف رکھتے ہیں کو اپنی نئی انتظامیہ میں سیاسی امور کے لیے وائٹ ہاؤس کا نائب چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔
نائب صدر منتخب ’جے ڈی وینس‘ نے سوموار کو ’ایکس‘ ویب سائٹ پر ملر کو ایک مبارکبادی پیغام پوسٹ کیا جس میں کہا گیا کہ "یہ صدر کی طرف سے ایک اور بہترین انتخاب ہے"۔ سی این این کے مطابق ملر پہلے شخص ہیں جنہیں ٹرمپ نے اپنی نئی کابینہ میں شامل کیا ہے۔
ملر ٹرمپ کے پہلے دور میں ان کے سینئر مشیررہے ہیں۔ ان کے بہت سے پالیسی فیصلوں میں مرکزی شخصیت تھے، خاص طور پر 2018 میں ایک ڈیٹرنس پروگرام کے طور پر ہزاروں تارکین وطن خاندانوں کو الگ کرنے کے ان کے اقدام میں ملر نے ٹرمپ کومشورہ دیا تھا۔
ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد سے ملر نے امریکہ فرسٹ لیگل کے صدر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس میں ٹرمپ کے سابق مشیر شامل ہیں اور صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ، میڈیا کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور دیگر کو چیلنج کرنے کے لیے اسے امریکن سول لبرٹیز یونین کے قدامت پسند ورژن کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اتوار کو دیر گئے اعلان کیا کہ وہ ٹام ہومن کو اگلی انتظامیہ میں ریاستہائے متحدہ کی سرحدوں کی نگرانی کے ذمہ دار ایجنسی کا انچارج مقرر کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ICE کے سابق ڈائریکٹر اور بارڈر کنٹرول کے ماہر ٹام ہومن ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہوں گے۔ وہ ہماری سرحدوں (بارڈر زار) کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے"۔
ہومن سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ سرحد سے متعلقہ کردار میں دوسری ٹرمپ انتظامیہ میں واپس آئیں گے۔
ریپبلکن ٹرمپ پانچ نومبر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک نائب صدر کملا ہیرس کے خلاف کامیابی کے بعد 2025ء کے اوائل میں باضابطہ طور پر وائٹ ہاؤس واپس آئیں گے۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے غیر دستاویزی تارکین وطن پر سخت تنقید کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تارکین وطن امریکہ میں "خراب جین" لاتے ہیں اور امریکی خون کو "زہریلا" بنا رہے ہیں۔