تباہ کن نقصان، ڈیموکریٹس کو نئے قربانی کے بکرے کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

کملا ہیریس کی مہم کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ کملا ہیریس نے ترقی پسند ردعمل کے خوف سے جو روگن کے پوڈ کاسٹ پر نمودار ہونے کا منصوبہ ختم کردیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی جیت کے بعد کچھ ڈیموکریٹس کس قدر ناراض ہیں۔

کملا ہیریس کی مہم اور روگن، جن کے سامعین بہت سے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس سے زیادہ ہیں، نے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ ایک ایک ایسا اقدام تھا جس سے کچھ ڈیموکریٹس کو امید تھی کہ ہیرس کو ان نوجوانوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی جو ٹرمپ کی طرف متوجہ تھے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق کملا ہیریس کے شوہر، ڈگ ایمہوف کی ایک سینئر مشیر، جینیفر پالمیری نے بتایا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر انٹرویو کو کس طرح دیکھا جائے گا، اس حوالے میں خدشات کی وجہ سے بات چیت رک گئی۔ پالمیری نے بدھ کو بتایا کہ ہمارے کچھ ترقی پسند نہیں چاہتے تھے کہ کملا وہاں رہیں ۔ ان کی طرف سے شدید رد عمل آٰنے کی توقع کی جارہی تھی۔

پالمیری، جنہوں نے پہلے وائٹ ہاؤس میں اور ہلیری کلنٹن کی 2016 کی مہم کے لیے کام کیا تھا، کملا ہیریس مہم کے ان پہلے عہدیداروں میں شامل ہیں جنہوں نے اس فیصلے کے بارے میں تفصیل سے بات کی جس کے بارے میں کچھ ڈیموکریٹس کو خدشہ ہے کہ یہ فیصلہ ان کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

کملا ہیریس کی بھاری شکست کے ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصہ بعد پارٹی نئے قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہے۔ کچھ رہنما صدر جو بائیڈن پر الزام لگا رہے ہیں۔ دوسروں نے کہا ہے کہ مہم نے اپنی میڈیا حکمت عملی کو خراب کیا اور اس نے متبادل ذرائع کے ساتھ بہت زیادہ محتاط رویہ اپنایا۔ روگن، جنہوں نے انتخابات سے ایک رات پہلے ٹرمپ کی حمایت کی تھی، کو ملک میں سب سے زیادہ مقبول پوڈ کاسٹر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ روگن کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد ہے جن میں خاص طور پر نوجوان شامل ہیں۔

روگن کے ساتھ ٹرمپ کا انٹرویو یوٹیوب پر تقریباً 50 ملین بار دیکھا جا چکا ہے۔ نائب صدر منتخب جے ڈی وانس کے ساتھ ان کے پوڈ کاسٹ انٹرویو کو 16 ملین مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں تقریباً 29 ملین لوگوں نے کملا ہیرس کی تقریر دیکھی اور 8 ملین سے کم لوگوں نے فاکس نیوز پر ان کا انٹرویو دیکھا۔

یو ایف سی کے مبصر روگن خاص طور پر مرد مہمانوں کے ساتھ مارشل آرٹس، غیر ملکیوں، ورزش کے معمولات اور سیاست سمیت مختلف موضوعات پر گھنٹوں طویل گفتگو کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں