بڑا فیصلہ ! بائیڈن کی یوکرین کو طویل فاصلے کے میزائلوں کے استعمال کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو روس کے اندر حملے کرنے کے لیے پہلی مرتبہ دور فاصلے تک مر کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ میزائل امریکا نے یوکرین کو فراہم کیے ہیں۔

امریکی ذمے داران نے یہ انکشاف کرتے ہوئے مزید بتایا کہ غالبا یہ ہتھیار ابتدا میں روس کے مغرب میں واقع علاقے کورسک میں یوکرین کی فوج کے دفاع میں روسی اور شمالی کوریائی افواج کے خلاف استعمال ہوں گے۔

ذمے داران کے مطابق یوکرین کو طویل فاصلے والے میزائلوں کے نظام ATACMS کے استعمال کی اجازت لڑائی میں شمالی کوریا کی فوج کو داخل کرنے سے متعلق روس کے اچانک فیصلے کے جواب میں دی گئی ہے۔ یہ بات امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے بتائی۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ وہ اس موقف کے بدلنے کے نتیجے میں جنگ کے انجام میں کسی بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے ہیں۔ امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مقصد شمالی کوریا کو یہ پیغام دینا ہے کہ اس کی فوج خطرے میں ہے اور انھیں مزید فوجی نہیں بھیجنا چاہیے۔

بعض امریکی ذمے داران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے مذکورہ میزائلوں کے استعمال کے نتیجے میں روسی صدر ولادی میر پوتین اتحاد میں امریکی افواج اور اس کے شراکت داروں کے خلاف بھرپور جواب دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

جو بائیڈن کا حالیہ فیصلہ امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنا منصب سنبھالنے سے دو ماہ قبل سامنے آیا ہے۔

روسی فوج کی جانب سے کورسک کے علاقے میں یوکرین کے ٹھکانوں پر تقریبا 50 ہزار فوجیوں کی مدد سے ایک بڑا حملہ کیا جانا ہے۔ ان فوجیوں میں شمالی کوریا کے فوجی بھی شامل ہوں گے۔ اس کارروائی کا مقصد روس کی وہ تمام اراضی واپس لیناہے جس پر یوکرین نے اگست میں قبضہ کر لیا تھا۔

جواب میں یوکرین امریکا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا میزائل نظام ATACMS استعمال کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ یوکرین کو طویل فاصلے کے میزائل نظام ATACMS کا فراہم کیا جانا فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے ایک حساس موضوع رہا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کے بعض عہدے داران نے یہ نظام یوکرین کو فراہم کرنے کی مخالفت کی تھی کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے پاس محدود امداد ہے۔

وائٹ ہاؤس کے بعض ذمے داران کو خدشہ تھا کہ اگر یہ میزائل یوکرین کو دیے گئے تو پوتین جنگ کا دائرہ وسیع کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں