چین کے صدر کا غزہ میں جنگ بندی اور یوکرین کے مسئلے کے سیاسی حل پر زور

برازیل کے دورے کے دوران شی جن پنگ نے دو ریاستی حل کے نفاذ اور مسئلہ فلسطین کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے مسلسل کوششیں کرنے پر زور دیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک بار پھرغزہ میں فوری جنگ بندی اور یوکرین کے مسئلے کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ژنہوا‘ نے بتایا کہ بدھ کو برازیل کے دارالحکومت کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر زور دیا۔

صدر شی نے غزہ میں تنازعہ کی توسیع پر تشویش کا اظہار کیا اور "جلد سے جلد جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے" پر زور دیا۔

شی جن پنگ نے اپنے برازیلی ہم منصب لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے ساتھ ملاقات کے دوران تنازعہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے اور مسئلہ فلسطین کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے مسلسل کوششیں کرنے پر زور دیا۔

چینی صدر نے یوکرین میں جنگ کا خاتمہ کرنے والے "سیاسی حل" کے لیے کام کرنے کی خاطر "مزید آوازوں" کو متحرک کرنے پر بھی زور دیا۔

بیجنگ اور برازیلیا نے یوکرین میں امن کے لیے مشترکہ روڈ میپ پیش کیا جس کی ماسکو نے حمایت کی لیکن کیف نے اسے مسترد کر دیا۔

ژنہوا کے مطابق صدر شی نے کہا کہ وہ "یوکرین میں سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے امن کے لیے پرعزم مزید آوازیں" دیکھنا چاہیں گے۔

چینی صدر نے ریو میں جی 20 سربراہی اجلاس کے بعد برازیل کا سرکاری دورہ کیا۔اس دوران انہوں نے متنبہ کیا کہ دنیا "افراتفری" کے ایک نئے مرحلے کا سامنا کر رہی ہے۔

امریکہ اور یورپ نے یوکرین میں امن کے حوالے سے چین-برازیل کی تجویز کی حمایت نہیں کی اور اس بات پر زور دیا کہ امن کی طرف کسی بھی قدم کو کیف کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں