نئی دہلی میں رہنے والے کروڑوں افراد کو زہریلی سموگ سے بچانے کے لیے بھارت کی اعلیٰ عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکام دارالحکومت کی 113 سڑکوں پر گاڑیوں کے لیے ناکے لگا کر چیکنگ کریں تاکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا داخلہ روک دیں۔
نئی دہلی جو روائتی طور پر دنیا کے آلودہ ترین دارالحکومتوں میں سے نمایاں ترین ہے۔ اسی ماہ دنیا کا آلودہ ترین شہر بھی قرار پایا تھا۔ اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران نئی دہلی میں آلودگی کی شرح اس حد سے ساٹھ گنا زیادہ ہو گئی تھی جو عالمی ادارہ صحت نے انسانی صحت کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔
اس صورت حال میں دہلی سے بہت سے شہری محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ جبکہ غیر ملکیوں نے بھی نئی دہلی سے اس بد ترین سموگ حملے کے دوران دور رہنے کا بندو بست کیا ہے۔ بھارتی اعلیٰ عدالت نے جمعہ کے روز حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ گاڑیوں کی شہر میں آمدورفت کو روکیں تاکہ سموگ میں کمی ہو سکے۔
اس سے قبل بھی نئی دہلی کی انتظامیہ ایسے کئی اقدامات کر چکی ہے۔ تاہم یہ سب جزوی نوعیت کے اقدامات رہے ہیں۔ ڈیزل سے چلنے والے ٹرکوں کی دارالحکومت میں آمد کے علاوہ کمرشل گاڑیوں کے نئی دہلی میں داخلے پر بھی پابندی ہے۔ مگر سپریم کورٹ نے اس پر اطمینان ظاہر نہیں کیا۔
عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ایک ذمہ دار نے عدالت کو بتایا کہ 113 میں سے اب تک صرف 13 سڑکوں اور چوراہوں سے گاڑیوں کی شہر میں آمد کو روکا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ شہر میں ٹرکوں کی آمد روکنے کے احکامات پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔ اس لیے باقی 100 انٹری پوائنٹس پر نگرانی سخت کی جائے اور گاڑیوں کی آمد کو روکا جائے۔