امریکی فوجی جنرل نے لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی سے ملاقات کر کے جنگ بندی معاہدے پر عمل یقینی بنانے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔ امریکہ نے اس ملاقات کرنے والے فوجی جنرل کو جنگ بندی کی مانیٹرنگ کا ٹاسک دے رکھا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا یہ معاہدہ پچھلے بدھ کے روز سامنے لایا گیا تھا۔ فوری طور پر امریکہ نے اس کی مانیٹرنگ شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے بدھ کے بعد آنے والے پہلے جمعہ سے ہی اس کی خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں۔
پیر کے روز امریکی فوجی ذمہ دار میجر جنرل جسپر جیفرز وزیراعظم نجیب میقاتی سے ملاقات کے لیے آئے تو لبنان کے لیے امریکی سفیر لیزا جانسن نے ان کا تعارف کرایا ہے۔ یہ ملاقات وزیر اعظم کے دفتر میں ہوئی۔
امریکی جنرل جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے اس پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے۔ نیز مشاورت اور تکنیکی و فوجی نوعیت کی مدد دیں گے۔ یہ بات بیروت میں موجود امریکی سفارت خانے کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھی گئی ہے۔
امریکی جنرل اس پانچ رکنی کمیٹی کے شریک سربراہ ہوں گے جو جنگ بندی معاہدے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں لبنان ، اسرائیل کے ساتھ ساتھ فرانس ، امریکہ اور اقوام متحدہ کے نمائندے شامل ہیں۔ آموس ہوچیسٹین اس پانچ رکنی کمیٹی کے غیر فوجی سربراہ ہونگے۔
وزیراعظم میقاتی کے دفتر کے مطابق وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران امریکی نمائندوں پر زور دیا کہ جنگ بندی سے متعلق وعدوں اور کمٹمنٹس کو پورا کیا جائے۔
اس ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد حزب اللہ نے بھی جمعہ کے روز سے جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں اور بمباری کا جواب دینے کا اعلان کر دیا۔ حزب اللہ نے اس سلسلے میں دو راکٹ فائر کیے ہیں۔