سویڈن : اسرائیلی فوجی کمپنی کےباہربارودی مواد رکھنے پر 17 سالہ لڑکےسمیت تین کوسزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل کی فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق کمپنی کے دفاتر کے باہر دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام میں سویڈن کی ایک عدالت نے 17 سالہ لڑکے سمیت تین افراد کو جیل بھیج دیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ماہ جون کے دوران گوتھین برگ میں اسرائیل کی ملٹری ٹیکنالوجی کے ادارے کے باہر دھماکہ خیزمواد پلاسٹک میں بند کر کے رکھا تھا۔

سویڈن کے دوسرے سب سے بڑے شہر گوتھین برگ قائم میں اسرائیلی ٹیکنالوجی فرم 'ایلبٹ سسٹمز ' نام کی اس کمپنی کو ' ان مینڈ ایریل سسٹم ' یعنی بغیر پائلٹ کے ڈرونز تیار کرنے کی شہرت حاصل ہے۔ اسی کے دفتر کے باہر بارودی مواد کے موصل فلاسکس پرمبنی دو پیکٹ رکھے گئے تھے۔

ایلبیٹ سسٹمز کے دفاتر کے باہر پلاسٹک کے دھماکہ خیز مواد سے بھرے دو موصل فلاسکس ملے تھے، جو بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کے لیے جانا جاتا ہے۔

تاہم سویڈن کے قومی بم اسکواڈ نے ان اشیاء کو کسی قسم کے جانی یا دوسرے نقصان سے پہلے ہی 4 جون کو اس جگہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

سویڈن کی عدالت 17 سال کی عمر کے ایک ملزم کے ساتھ دو افراد کو عمارت کے باہر بم رکھنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس سزا پانے والے 17 سالہ لڑکے کی عمر 16 سال تھی۔

ایک پہلے مدعا علیہ کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ مؤخر الذکر 17 سالہ لڑکے کو ایک سال دو ماہ تک بچوں کے لیے قائم جیل میں بند رکھاجائے گا۔

ان دونوں سزا یافتگان پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر دو دھماکہ خیز پیکٹ رکھے تھے۔ گوتین برگ کی عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ بارودی مواد کا وزن 3.3 کلو تھا،ان دونوں کا یہ اقدام غیر قانونی اور بلا اجازت تھا۔

عدالت کی طرف سے سزا پانے والے تیسرے مشتبہ شخص کی عمر 29 سال ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے گھر میں دھماکہ خیز مواد کو ذخیرہ کرنے کا جرم کیا ہے۔ یہ پہلے دو ملزمان کا ساتھی ہے مگر اس نے بارود ان تک پہنچایا نہیں ہے۔ جیسا کہ مقدمے کے پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا تھا۔ اس لیے اسے 4 سال اور 7 ماہ کے لیے قید سنائی گئی ہے۔

تینوں ملزمان نے مقدمے کے دوران صحت جرم سے انکار کیا تھا۔ دوسری جانب سویڈ انٹیلی جنس نے مئی کے اواخر میں ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ سویڈن کے جرائم پیشہ افراد کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کو بھرتی کر رہا ہے۔ ایران بھی اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج کی اس ٹیکنالوجی کمپنی ایلبیٹ سسٹمز کو 10 اکتوبر کو ایک 15 سالہ لڑکے کی طرف سے فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ تاہم اس سے کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے سویڈن میں اسرائیلی مفادات کے خلاف کئی واقعات کو جنم دیا ہے۔ یکم اکتوبر کو سٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارت خانے کو فائرنگ کی زد میں لینے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح فروری میں بھی پولیس کو سفارتخانے کے قریب ایک ہینڈ گرینیڈ ملا تھا ۔ اس واقعے کو اسرائیلی سفیر نے اپنے اوپر حملے کانام دیا تھا۔ ماہ مئی میں بھی گولی چلانے کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں